’اپوزیشن پاکستانی نہیں ہے‘

بہار میں بی جے پی نے شکست تسلیم کر لی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبہار میں بی جے پی نے شکست تسلیم کر لی ہے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

بہار کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شکست وزیراعظم نریندر مودی کے لیے لمحۂ فکریہ ہے اور اس سے قومی سیاست کی سمت بدل سکتی ہے۔

تین اہم پہلو جن پر حکومت کو بدلنا ہوگا:

انڈین ایکسپریس کے سابق ایڈیٹر شیکھر گپتا کہتے ہیں کہ حکومت کو اب یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ’اپوزیشن پاکستانی نہیں ہے۔۔۔اور بی جے پی کا یہ خواب کے ایک کے بعد ایک وہ تمام ریاستیں جیتتی چلی جائے گی، پورا نہیں ہو سکتا۔‘

یعنی حکومت کو اب حزب اِختلاف کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا جو وہ اب تک کرنے میں ناکام رہی ہے۔ایوان بالا یا راجیہ سبھا میں حکومت کو اکثریت حاصل نہیں ہے اور اس وجہ سے کئی اہم قانون التوا میں پڑے ہوئے ہیں۔ قانون سازی کا عمل اپوزیشن کے تعاون کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا اور اقتصادی اصلاحات پر اگر حکومت عمل کرنا چاہتی ہے تو اب اس کے پاس اپوزیشن کے خدشات کو یکسر مسترد کرنے کا آپشن نہیں ہے۔

مذہبی منافرت

حکومت کو اب یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ’اپوزیشن پاکستانی نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحکومت کو اب یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ’اپوزیشن پاکستانی نہیں ہے

جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، ملک میں مذہبی منافرت کا ماحول بڑھا ہے۔ خود بی جے پی کے کئی سینیئر رہنماؤں اور پارٹی کے نظریاتی اتحادیوں کے بیانات کی وجہ سے منافرت کا ماحول بڑھ رہا تھا اور بہار کے انتخابات میں جس طرح کی زبان استعمال کی گئی وہ شاید 1990 کے عشرے کے بعد پہلی مرتبہ سنائی دے رہی تھی۔

بی جے پی کے صدر امت شاہ کا یہ کہنا کہ پارٹی اگر ہار گئی تو پٹاخے پاکستان میں چھوڑے جائیں گے یا ایک انتخابی ریلی میں وزیراعظم کا یہ بیان کے بہار کی حکومت دہشت گردوں کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کرتی ہے اور پسماندہ طبقات سے چھین کر ریزرویشن کا ایک حصہ ’ایک اقلیت‘ کو دیناچاہتی ہے، شاید خود پارٹی کے گلے کی ہڈی بن گئے۔

سینیئر صحافی کرن تھاپر نے تو یہاں تک کہا کہ ریزرویشن سے متعلق وزیراعظم کا بیان ان کے عہدے کے حلف کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے کیونکہ وہ صرف ایک فرقے کے وزیر اعظم نہیں ہیں۔ پارٹی کو اب یہ سوچنا ہوگا کہ گائے کی سیاست سےاسے کہیں فائدہ کم اورنقصان تو زیادہ نہیں ہورہا ہے؟

حکومت کو رواداری پر جاری بحث پر از سر نو غور کرنا ہوگا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ہر اس شخص کو قوم مخالف یا غدار قرار دینے سے، جو حکومت کی رائے سے اتفاق نہ کرتا ہو، سیاسی بحث کی گنجائش یہ ختم ہو جاتی ہے اور یہ ہی وہ ماحول ہے جس کے خلاف بڑی تعداد میں دانشور، ادیب، فلم ساز ، مورخ، مصنف اور سنگیت کار آواز اٹھا رہے ہیں۔

اور تیسرا ترقی

حکومت کو رواداری پر جاری بحث پر از سر نو غور کرنا ہوگا

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنحکومت کو رواداری پر جاری بحث پر از سر نو غور کرنا ہوگا

نریندر مودی جب پارٹی کے لیڈر بنے تو پارٹی کی باقی قیادت کا تقریباً صفایہ ہوگیا تھا۔ اس وقت پارٹی بنیادی طور پر صرف تین لوگوں کے ہاتھ میں بتائی جاتی ہے، وزیراعظم، ان کے قریبی معتمد اور پارٹی کے صدر امت شاہ اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی۔ جب تک نریندر مودی کا انتخابی جادو چل رہا تھا، باقی رہنما خاموش بیٹھے تھے لیکن دہلی کے بعد بہار میں کراری شکست کے بعد بی جے پی کے اندر سے بھی آوازیں اٹھ سکتی ہیں اور وزیراعظم کے لیے انھیں اب نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔

پارٹی اور حکومت کو اب ترقی کے ان وعدوں پر دوبارہ توجہ مرکوز کرنا ہوگی جو اس نے گذشتہ برس پارلیمانی انتخابات کے دوران کیے تھے۔

ماہرین کے مطابق اس الیکشن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ووٹروں کو روزگار چاہیے، ایک بہتر زندگی چاہیے، یہ ہی فارمولہ گذشتہ برس کامیاب ہوا تھا اور جن پارٹیوں کو الیکشن جیتنا ہے، انہیں اسی پر عمل کرنا ہوگا۔

بھارتی سیاست اس الیکشن کے بعد ایک غیر معمولی موڑ پر کھڑی ہے، بہار نے رام مندر کی تحریک کےدوران بھی راستہ دکھایا تھا(جب لالو پرساد یادو نے رام مندر کی تعمیر کے لیے لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا کو روک کر انہیں گرفتار کیا تھا) اور اب پھر دکھایا ہے۔

جلدی ہی کئی دوسری بڑی ریاستوں میں انتخابات ہونے ہیں۔ یہ وقت ہی بتائے گا کہ نریندر مودی کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں۔