بنگلور میں بس میں لڑکی کا ریپ، دو افراد گرفتار

بھارت کے جنوبی شہر بنگلور (بنگلورو) میں پولیس نے ایک 22 سالہ لڑکی کے مبینہ ریپ کے معاملے میں دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ریپ کا یہ واقعہ تین اکتوبر کی شب پیش آیا تھا اور پولیس کا کہنا ہے کہ ایک کال سینٹر میں کام کرنے والی 20 سے 30 سال کی عمر کی ایک خاتون سے جنوب مشرقی بنگلور میں دو افراد نے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی۔
بنگلور کے پولیس کمشنر این ایس میگھارس نے منگل کی شام ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ پولیس نے اس معاملے میں 23 سالہ سنیل اور 24 سالہ یوگیش کو گرفتار کیا ہے.
پولیس نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ جس منی بس میں خاتون سے زیادتی کی گئی وہ بھی برآمد کر لی گئی ہے۔
پولیس کمشنر نے بتایا کہ پکڑے گئے دونوں افراد کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور دونوں نے اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق لڑکی کو اس کے دفتر کے نزدیک سے ایک منی بس میں بٹھا کر ایک ویران جگہ پر لے جایا گیا تھا اور منی بس میں اس وقت صرف ڈرائیور اور ہیلپر ہی موجود تھے۔

،تصویر کا ذریعہ
ایک پولیس افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا: ’لڑکی کو یہ علم نہیں تھا کہ اسے کہاں لے جایا جا رہا ہے کیونکہ وہ کچھ مہینے پہلے ہی ایک بی پی او میں کام کرنے کے لیے بنگلور آئی تھی۔‘
بس کا ہیلپر مدی والا تھانے کے علاقے کے مسافروں کے لیے آواز لگا رہا تھا اور متاثر لڑکی اسی علاقے میں پیئنگ گیسٹ کے طور پر رہتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس واقعے کے بعد مذکورہ لڑکی کو اس کے دوستوں نے ہسپتال پہنچایا تھا جہاں کی انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع دی تھی۔
خیال رہے کہ اسی طرح کا ایک واقعہ تین سال قبل بھارتی دارالحکومت دہلی میں ہوا تھا جب بس میں ایک 23 سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی ریپ کیا گیا تھا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئی تھی۔
اس کے بعد پورے بھارت میں اس واقعے کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے اور ریپ کے قانون کو سخت بنایا گیا تھا۔
لیکن اس کے بعد بھی ریپ کے واقعات میں متواتر سامنے آتے رہیں ہیں جن میں بیرون ممالک کی خواتین کا بھی اجتماعی ریپ شامل ہے۔







