افغانستان: جھڑپوں اور تشدد میں 40 سے زیادہ ہلاکتیں

حالیہ ہفتوں کے دوران طالبان کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنحالیہ ہفتوں کے دوران طالبان کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے

افغانستان میں سکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے مابین 24 گھنٹوں کے دوران جھڑپوں اور تشدد میں 30 طالبان سمیت چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

تشدد کے یہ واقعات افغانستان کے مرکزی صوبہ غزنی اور جنوبی ضلع ارزگان میں گذشتہ رات پیش آئے۔

صوبہ غزنی کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ضلع قراباخ کے علاقے میں کم سے کم 15 طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

غزنی میں پولیس کے ایک اعلیٰ پولیس اہلکار اسد اللہ انصافی نے بی بی سی کو بتایا کہ ضلع گیرو میں بھی 16 طالبان ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم یہاں سرکاری فورسز کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’دشمن ایک چیک پوسٹ کے قریب بارودی سرنگ نصب کرنے آ رہے تھے کہ وہ راستے ہی میں پھٹ گئی جس سے کئی طالبان جنگجو مارے گئے۔‘

پولیس اہلکار کے مطابق دھماکے کے بعد طالبان نے چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا جس کے جواب میں سکیورٹی فورسز نے کارروائی شروع کردی۔

پولیس اہلکار کے بقول اس جھڑپ میں 16 طالبان ہلاک ہوگئے جبکہ اس دوران پانچ سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے۔

غزنی کے گورنر کے ترجمان ننگ ساپی کا کہنا ہے کہ ضلع اندڑ میں طالبان کے ایک حملے میں حکومت حامی ایک مقامی کمانڈر عبداللہ اپنے پانچ ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے ہیں۔

ان کے بقول یہ جھڑپ رات کے وقت ہوئی اور سرکاری افواج مدد کے لیے موقع پر نہیں پہنچ سکی۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں صوبہ بھر میں مختلف کارروائیوں کے دوران حکومت حامی ایک کمانڈر اور کئی سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعوٰی کیا ہے۔

دوسری جانب جنوبی صوبہ ارزگان میں طالبان کے ایک حملے میں صوبائی علما کونسل کے سربراہ ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان نے صوبہ کے سکیورٹی چیف کے قافلے پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں مولوی لعل محمد ہلاک ہوگئے تاہم سکیورٹی چیف محفوظ رہے۔

حکام کے مطابق ارزگان میں تشدد کے ایک دوسرے واقعے میں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں تین پولیس اہلکار ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔

گزشتہ چند ہفتوں سے افغانستان بھر میں طالبان کی مسلح کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

اس دوران صوبہ ہملند کا عسکری نوعیت سے اہم ضلع موسٰی قلعہ طالبان کے ہاتھ آگیا ہے۔

ادھر افغان حکام نے موسٰی قلعہ میں طالبان کے ایک جلسے پر فضائی کارروائی کے دوران سو سے زیادہ طالبان کی ہلاکت کا دعوٰی کیا ہے۔