نیٹو کے انخلا کے بعد افغانستان میں خواتین کی ہلاکتوں میں اضافہ

افغانستان میں خواتین کے ہلاک یا زخمی ہونے کی شرح میں 23 فی صد کا اضافہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنافغانستان میں خواتین کے ہلاک یا زخمی ہونے کی شرح میں 23 فی صد کا اضافہ ہوا ہے

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دسمبر سنہ 2014 میں نیٹو فورسز کے انخلا کے بعد افغانستان میں خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگرچہ پہلے چھ مہینوں میں ہونے والی مجموعی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات میں صرف ایک فی صد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ خواتین کے ہلاک یا زخمی ہونے کی شرح میں 23 فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ بچوں کی ہلاکتوں میں 13 فی صد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافے کی وجہ زمینی جنگ میں اضافہ ہے جبکہ پہلے سڑک کے کنارے بم دھماکوں میں ہلاکتیں ہوتی تھیں۔

اقوام متحدہ نے طالبان اور حکومت مخالف طاقتوں کو شہریوں کو نشانہ بنانے سے باز رہنے کی اپیل کی ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں گذشتہ چھ مہینوں میں تقریباً 1600 افراد ہلاک جبکہ تین ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

نیٹو نے اپنے اعلان کے مطابق دسمبر میں افغانستان کو خیرباد کہا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننیٹو نے اپنے اعلان کے مطابق دسمبر میں افغانستان کو خیرباد کہا تھا

افغانستان میں اقوام متحدہ تعاون میشن یو این اے ایم اے کے سربراہ نیکولس ہیسم کا کہنا ہے کہ ’سنگ دل اعداد وشمار افغانستان میں تشدد کے خوف کی پوری طرح عکاسی کرنے سے قاصر ہیں جن میں بچوں، خواتین، ماؤں، بیٹوں اور باپوں کی کٹی پھٹی لاشیں شامل ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’اس رپورٹ کے اعداد شمار سوگوار خاندان اور صدمے سے دوچار افغان عوام کے بارے میں کچھ نہیں کہتے۔ یہ افغانستان کی سورش کے حقیقی نتائج ہیں۔‘

یو این اے ایم اے نے 70 فی صد شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ داری طالبان سمیت حکومت مخالف طاقتوں پر ڈالی ہے۔