شمالی افغانستان میں طالبان کا پولیس بیس پر قبضہ

،تصویر کا ذریعہf
افغانستان میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی علاقے بدخشاں میں تین روز کی لڑائی کے بعد طالبان نے مقامی پولیس کی ایک بیس پر قبضہ کر لیا ہے اور متعدد پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا۔
اطلاعات کے مطابق بدخشاں صوبے میں ہوئے اس واقعے میں ایک سو سے زیادہ پولیس اہلکاروں نے طالبان جنگجوؤں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ تاہم طالبان نے ایک معاہدے کے بعد ہتھیار ڈال دینے والے پولیس افسران کو رہا کر دیا اور اس معاہدے کے تحت اڈے پر موجود تمام ہتھیار طالبان کے حوالے کر دیے گئے۔
گذشتہ برس دسمبر میں نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد افغان سکیورٹی افواج کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کا یہ سب سے بڑا واقعہ ہے۔
طالبان نے اس سال موسمِ بہار کے بعد سے اپنے حملوں میں اضافہ کر رکھا ہے۔
پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جب طالبان نے اڈے پر حملہ کیا اور سنیچر کو پولیس افسران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا تو مقامی پولیس کمانڈروں اور شدت پسندوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت ہتھیار ڈالنے والوں نے اپنے ہتھیار طالبان کے حوالے کر دیے اور انھیں رہائی مل گئی۔
کچھ اہلکاروں نے کابل میں وفاقی حکومت کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ جب شدت پسندوں نے اڈے کا محاصرہ کیا ہوا تھا، وفاقی حکومت محاصرے کو توڑنے کے لیے کمک بھیجنے میں ناکام رہی۔
بدخشاں صوبے کی پولیس کے سربراہ جنرل بابا جان کے مطابق وردوج ضلعے میں واقع اس اڈے تک حالیہ بارشوں کے باعث رسائی منقطع ہو گئی تھی۔
یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ علاقے میں کمک جہاز کے ذریعے کیوں نہیں بھیجی گئی گو ان وادیوں میں جہازوں کا اترنا دشوار ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واقعے کے بعد طالبان نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ ایک معاہدے کے بعد انھوں نے ایک سو دس پولیس افسران، ان کے مقامی کمانڈر اور مقامی سرحدی پولیس کے سربراہ کو رہا کر دیا ہے۔







