عشروں کے ظلم و جبر سے ہمیشہ کے لیے آزادی

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
یکم اگست بھارت بنگلہ دیش کی سرحدوں کے نزیک واقع 162 نام نہاد بھارت بنگلہ انکلیو کے ہزاروں باشندوں کی زندگی کا سب سے تاریخی دن ہے کیونکہ آج کےدن انہیں آزادی ملی ہے۔
جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب بارہ بجتے ہی دونوں ملکوں کے یہ انکلیو ہمیشہ کےلیے ختم کر دیے گئے اور جو انکلیو بھارت میں تھے وہ بھارت کی ملکیت میں آگئے اور جو بنگلہ دیش میں تھے ان پر اب بنگلہ دیش کا اقتدار اعلیٰ قائم ہوگیا ہے۔ ان سابقہ انکلیو کے باشندوں کو اب شہریت اور قومیت مل گئی ہے ۔
بھارت کو جب آزادی ملی اس وقت سے انکلیو کے یہ باشندے قومیت سے محروم ہو گئے اور کل رات تک وہ دنیا کے غالباً واحد ایسے باشندے تھے جو زمین کے مالک ہوتے ہوئے بھی کسی ملک کے شہری نہیں تھے۔
ان کے پاس نہ کو ئی شناختی کارڈ تھا، اور نہ ہی پاسپورٹ۔ انکلیو کے ہزاروں باشندے پچھلے 68 برس سے اپنے چھوٹے چھوٹےگاؤں میں محصور تھے۔ انھیں سکول ہسپتال، بجلی پانی اور تمام جدید سہولیت سے محروم رکھا گیا۔ سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ وہ اپنے انکلیو سے باہر نہیں نکل سکتے تھے کیونکہ ایسا کرنا قانون کی سنگین خلاف ورزی میں شمار ہوتا تھا۔ ہزاروں لوگ دوا لینے، مزدوری کرنے یا اپنا اناج فروحت کرنےکے لیے انکلیو سے باہر آنے کے جرم میں جیل کی سزا کاٹ چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSazzad ur rahman
بھارت، مشرقی پاکستان اور بعد میں بنگلہ دیش کی حکومت نے ان باشندوں کو 68 برس سے انتہائی غیر انسانی حالات میں رہنے پر مجبورکر رکھا تھا۔ یہ کوئی بہت پیچیدہ مسئلہ نہیں تھا۔اس پر معاہدہ 1974 میں ہو چکا تھا لیکن اس کی منظوری اور نفاذ میں 42 برس لگ گئے۔ پچھلے 68 برس سے یہاں کے باشندوں کی تین نسلیں زمین پر اپنے وجود کی شناخت اور انسانوں کی طرح جینے کے حق کے لیے جدو جہد کرتی رہیں۔
کل رات یہ انکلیو عشروں کے ظلم و جبر سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو گئے۔ بنگلہ دیش کے انکلیو کے باشندوں کو بنگلہ دیش کی اور بھارت میں واقع انکلیو کے باشندوں کو بھارت کی شہریت دے دي گئی اور یہ انکلیو اپنے اپنے ملکوں میں ضم کر دیے۔ ہر طرف جشن کا سماں تھا۔ اب یہ شہری پوری طرح آزاد ہیں۔ ہر شخص کی زبان پر آزادی اور تشکر کے نعرے تھے۔

دونوں ملکوں نے جو قدم اٹھایا وہ ان ملکوں کےلیے تو نہیں لیکن ان باشندوں کے لیے تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔
انہیں 68 برس میں پہلی بار قومیت، شہریت اور آزادی نصیب ہوئی ہے۔ جن غیر انسانی حالات میں ہزاروں باشندوں نے گذشتہ 68 برس گزارے ہیں وہ کسی مہذب معاشرے کے لیے انتہائی افسوسناک ہیں۔ انکلیو کی کی قومیت اور شہریت کا سوال برسوں پہلے آسانی سےحل کیا جا سکتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انکلیو کی تین نسلوں کو غیر انسانی حالات سے آسانی سے بچایا جا سکتا تھا۔ لیکن یہ بر صغیر کی سیاست کا دستور ہے کہ جس کے پاس اقتصادی، سیاسی اور تعلیم کی طاقت نہیں ہوتی اس کی کوئی نہیں سنتا۔







