’میرا نام جہاد حسین اوباما ہے‘

فوری طور پر ماں نے جہاد کو قمیض پہنانی شروع کردی
،تصویر کا کیپشنفوری طور پر ماں نے جہاد کو قمیض پہنانی شروع کردی
    • مصنف, امیتابھ بھٹّاسالی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، مغربی بنگال

بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد پر موشال ڈانگا انکلیو میں ہر کوئی 31 جولائی کی شام کی تیاریوں میں مصروف تھا کیونکہ بستیوں کے تبادلے کا عمل ہونا تھا۔

ایسے میں کسی کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ اس وقت جہاد کہاں ہے۔

بھارتی علاقے میں موجود اس سابق بنگلہ دیشی انکلیو میں پیدا ہونے والے پانچ سالہ بچے جہاد کی پیدائش نے اسے مخصوص بنا دیا ہے۔

بھارتی ہسپتال میں اپنے ماں باپ کے اصل نام اور پتے کے ساتھ پیدا ہونے والا وہ پہلا بنگلہ دیشی بچہ ہے۔

بنگلہ دیش انکلیو میں رہنے والے لوگ طبی امداد اور دوسری سہولیات حاصل کرنے کے لیے اپنی اصلی شناخت چھپا لیتے تھے اور اپنے بچوں کی پیدائش کے وقت شوہر یا بیوی کے نام اور پتے بدل دیا کرتے تھے۔

گاؤں میں جشن کا ماحول

،تصویر کا ذریعہSazzad ur rahman

،تصویر کا کیپشنگاؤں میں جشن کا ماحول

اس طرح وہ بھارتی ہسپتالوں میں علاج کرا پاتے تھے اور بھارتی سکولوں اور کالجوں میں اپنے بچوں کو پڑھا پاتے تھے۔

جب میں نے جہاد کے والد شاہ جہاں شیخ اور ان والدہ اسما بی بی سے پوچھا کہ آپ کا بیٹا کہاں ہے، تب انھیں خیال آیا کہ جہاد تو ارد گرد نظر نہیں آرہا ہے۔

اور پھر جہاد کی تلاش شروع ہوئی۔ تھوڑی دیر کے لیے وہاں پر موجود تمام افراد بے چین ہو گئے۔ 15-20 منٹ بعد ہی ننھا جہاد ہاتھ میں کھلونے لیے مٹی سے اٹی ٹانگوں کے ساتھ جانے کہاں سے سامنے آ گیا۔

اسما فوری طور پر اپنے بیٹے کو پکڑ کر اسے قمیض پہنانے لگیں۔ لیکن جہاد تو اپنے کھلونے میں مگن تھا۔

میں نے اس سے پوچھا: ’تمہارا نام جہاد کیوں ہے؟ گاؤں میں کسی کا ایسا عجیب نام نہیں ہے۔‘

انکلیو کے رہائشی اپنے گھر سے نکل رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہbbc bangla

،تصویر کا کیپشنانکلیو کے رہائشی اپنے گھر سے نکل رہے ہیں

میرے سوال پر جہاد نے میری طرف دیکھے بغیر ہی کہا: ’میرا نام جہاد حسین اوباما ہے اور یہ نام میرے دوست نے رکھا ہے۔‘

میں نے پوچھا: ’کون ہے تمہارا دوست؟‘ اس نے جواب دیا: ’دیپتی مان سین گپتا۔ دیپتی مان سین گپتا انکلیو ایکسچینج تحریک کے سربراہ رہے ہیں۔‘

جہاد کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کیونکہ اس کا اصل تعارف کے ساتھ بھارتی ہسپتال میں جنم لینا بنگلہ دیشی انکلیو کے شہریوں کے لیے کسی جہاد سے کم نہ تھا۔

اسما بی بی کہتی ہیں: ’مجھے درد زہ شروع ہوا تو میرے شوہر مجھے پاس کے بھارتی قصبے دين ہاٹا کے ایک ہسپتال میں لے گئے۔ ڈاکٹروں نے مجھے یہ کہہ کر دیکھنے سے انکار کر دیا کہ میں بنگلہ دیشی ہوں اور میں بھارتی ہسپتال میں علاج نہیں کرا سکتی پھر میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی بنگلہ دیشی شناخت نہیں چھپاؤں گي۔‘

اسما اور شاہ جہاں کے معاملے پر ہسپتال کے عملے میں بحث شروع ہو گئی۔ ہسپتال والوں نے انھیں دھمکی بھی دی کہ اگر بنگلہ دیشی انکلیو میں رہنے والے لوگ جلد ہسپتال سے باہر نہیں نکلے تو پولیس بلا کر انھیں گرفتار کروا دیا جائے گا۔

گذشتہ ایک عرصے سے ان کا مستقبل معلق تھا
،تصویر کا کیپشنگذشتہ ایک عرصے سے ان کا مستقبل معلق تھا

دیکھتے ہی دیکھتے اس واقعے کی خبر علاقے میں پھیل گئی اور ہزاروں بنگلہ دیشی انکلیو کے رہائشی ہسپتال میں پہنچ گئے۔

شاہ جہاں اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’لوگوں کے دباؤ دینے کے بعد میری بیوی کو ہسپتال میں داخل کیا گیا اور جہاد کی پیدائش ہوئی۔ ہمارا اصلی نام اور پتہ اس کے والدین کے طور پر ہسپتال میں درج کیا گیا۔‘

وہ بتاتے ہیں: ’ایسا پہلی بار ہوا کہ انکلیو کے کسی بچے کے والدین کا اصلی نام اور پتہ درج کیا گیا۔ جہاد سے بڑے میرے دو بچوں کے والدین کے طور پر کسی اور کا نام لکھا ہے۔ سرکاری طور پر میں اپنے دونوں بڑے بچوں کا باپ نہیں ہوں۔‘

یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیشی انکلیو میں رہنے والوں کو جہاد سے خاص لگاؤ ہے۔