افطار کی سیاست

،تصویر کا ذریعہBharti Bhushan
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
عید کے ساتھ ہی رمضان اختتام پذیر ہوا، یوں تو رمضان کا مہینہ عبادت صبر اور قناعت سے منسوب ہے لیکن بھارت کےدارالحکومت دلی کے سیاسی حلقوں میں یہ افطار پارٹیوں کے لیے مشہور ہے۔
اس مہینے میں بڑی بڑی سیاسی پارٹیاں ، وزرا ، تنظیمیں اور اہم شخصیات افطار پارٹیوں کا اہتمام کرتی ہیں۔ یہ افطار پارٹیاں سیاسی نقطہء نظر سےبہت اہم مانی جاتی ہیں۔
غالباً سیاسی افطار پارٹی کا آغاز اندرا گاندھی کے دور میں ہوا۔ وہ اپنی رہائش گاہ پرافطار پارٹی کا اہتمام کرتی تھیں۔
اس افطار پارٹی میں بڑے بڑے رہنماؤں، صحافیوں اور اہم مسلم شحضیات کو مدعو کیا جاتا۔ اس کا بنیادی مقصد اپنا ذاتی اثرو رسوخ بڑھانا اوراہم شخصیات کو کانگریس سے قریب لانا تھا۔
اٹل بہاری واجپئی کے دور میں افطار پارٹی ایک باضابطہ سالانہ تقریب بن گئی۔
وزیر اعظم واجپئی اپنی رہائش گاہ پر بہت شاندار افطار پارٹی کا اہتمام کرتے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے اعلیٰ رہنماؤں کےعلاوہ ، اہم شخصیات، عرب ممالک کے سفیر ، مذہبی رہنما اور سرکردہ صحافی وغیرہ مدعو کیےجاتےتھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
حزب اختلاف کی طرف سے بھی افطار پارٹیاں دی جاتی تھیں۔ لالو پرساد ، ملائم سنگھ یادو اور رام ولاس پاسوان جیسے کئی رہنما بھی افطار پارٹیوں میں پیش پیش تھے۔
چونکہ وہ دور مخلوط حکومتوں کا تھا۔ سیاسی اتحاد بنتے اوربگڑتے رہتے تھے، کس پارٹی میں کون مدعو کیا گیا اور کس نےکس پارٹی میں شرکت کی، اس کی بنیاد پر نئے محاذوں کی تشکیل کی حکمت عملی طے ہوا کرتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر اعظم نریندر مودی کو رمضان یا مسلمانوں میں ایسی کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے اس لیے انھوں نے نہ صرف افطار پارٹی دینا بند کر دیا ہے بلکہ وہ اس میں شریک بھی نہیں ہوتے۔
صدر مملکت کی افطار پارٹی ميں وہ شریک نہیں ہوتے، وہ عید کی مبارکباد بھی نہیں دیتے تھے لیکن اس بار کشمیر میں ایک تفریب میں حصہ لیتے ہوئے انھوں نے عید کی مبارکباد بھی دی۔
اس بار ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس نے بھی اتر پردیش کے کئی ضلعوں میں افطار پارٹی کا اہتمام کیا۔
سیاسی جماعتوں کی طرح کئی سفارتخانوں نے بھی افظار پارٹی شروع کر دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
عرب لیگ کویت اور پاکستان کےساتھ ساتھ اب امریکہ اوراسرائیل نے بھی افطار پارٹیاں شروع کر دی ہیں۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پاکستان نےاس بار افطار پارٹی کا دعوت نامہ بھیج کر پارٹی منسوخ کر دی اور اس کی جگہ اب ’عید ملن‘ کا پروگرام رکھا گیا ہے۔
پاکستان نے اس تقریب میں کشمیر کےعلیحدگی پسند رہنماؤں کو بھی مدعو کیا ہے۔ اس پارٹی پر بھارتی حکومت کی گہری نظر رہے گی۔
اس برس امریکہ اور اسرائیل نے بھی افطار پارٹی منعقد نہیں کی۔ شاید ان کی دلچسپی اس طرح اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں ختم ہوگئی، ورنہ چند مہینے قبل تک یہ سفارتخانے قوالیاں تک کرانے لگے تھے۔
افطار پارٹی اور عید ملن بھارت کی سیاست کا ایک حصہ بنتےجا رہے ہیں۔ رمضان کےاختتام کےبعد اب عید ملن کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
آئندہ ہفتے کئی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے عید ملن کا اہتمام کیاگیا ہے۔







