مدرسہ نہیں سکول چاہیے

پرانے طرز کی تعلیم ، غیر تربیت یافتہ ٹیچرز اور غیر تسلیم شدہ کتابوں کو پڑھا کر مدرسے کے بچوں کو مستقبل کے لیے نہیں تیار کیا جا سکتا

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK

،تصویر کا کیپشنپرانے طرز کی تعلیم ، غیر تربیت یافتہ ٹیچرز اور غیر تسلیم شدہ کتابوں کو پڑھا کر مدرسے کے بچوں کو مستقبل کے لیے نہیں تیار کیا جا سکتا
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں ریاستی حکومت نے ان مدرسوں کو سکول تسلیم کرنےسے انکار کر دیا ہے جہاں جدید اور سیکولر مضامین مثلاً سائنس اور حساب جیسے مضامین کورس کا حصہ نہیں ہیں۔

ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ اگر ان مدرسوں کو سکول کے طور پر خود کو تسلیم کرانا ہے تو انہیں ، حکومت کی تسلیم شدہ نصابی کتابیں ان مدرسوں میں پڑھانی ہوں گی۔

مہاراشٹر کی حکومت نے ریاست میں ان بچوں کا ایک سروے شروع کیا ہے جو سکول سے باہر ہیں۔

ریاست میں ہزاروں اسلامی مدرسے ہیں جہاں مذہب کی تعلیم کے ساتھ پرائمری درجات کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔

حکومت نے یہ واضح کیا ہے کہ ان مدرسوں کو سائنس، حساب، سوشل سائنسز اور دوسرے سیکیولر مضامین کی تعلیم کے لیے حکومت کی تسلیم شدہ نصابی کتابیں پڑھانی ہوں گی تبھی ان مدرسوں کو سکول کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔

ایسا نہ ہونے کی صورت میں ان مدرسوں کے بچوں کو سکول سے باہر تصور کیا جائے گا اور انھیں مدرسے کے ساتھ ساتھ دوسرے سکول میں بھی داخل ہونا پڑےگا۔

جماعت اسلامی اور کئی دیگر مسلم تنظیموں نے حکومت کے اس فیصلے پر نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے مدرسوں کے ایک لاکھ بچے سکول سے باہر ہو جائیں گے۔

بھارت کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کی آبادیوں میں بڑی تعداد میں مدرسے موجود ہیں اور ان کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

بہت سے مدارس نے پرائمری اور سیکنڈری سطح تک جدید طرز کی تعلیم بھی دینی شروع کر دی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبہت سے مدارس نے پرائمری اور سیکنڈری سطح تک جدید طرز کی تعلیم بھی دینی شروع کر دی ہے

مدرسوں کی بڑی تعداد میں موجودگی مسلمانوں میں مذہبی تعلیم کی طرف مائل ہونے کی عکاس نہیں ہے بلکہ ان کے علاقوں میں سکولوں کی کمی کا مظہر ہے۔

مسلمانوں کی اقتصادی اور تعلیمی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منموہن سنگھ کے دور اقتدار میں قائم کیے گئے سجر کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ پورے ملک میں مدرسوں میں صرف چار فیصد مسلمان بچے پڑھتے ہیں۔

سچر کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھا تھا کہ 65 برس میں حکومتوں نے مسلمانوں کی آبادی والے قصبوں، شہروں، دیہاتوں اور بستیوں میں دانستہ طور پر سکول اور تعلیمی ادارے نہیں کھولے جس کے سبب مسلمان تعلیم میں پیچھے رہ گئے۔

سرکاری سکولوں کی کمی کےسبب مدرسے وجود میں آئے جو نہ صرف مذہبی تعلیم فراہم کرتے تھے بلکہ ان میں غریب اور پسماندہ آبادی کے بچوں کو آسانی سے داخلہ بھی مل جاتا ہے۔

ان میں بہت سے مدارس نے پرائمری اور سیکنڈری سطح تک جدید طرز کی تعلیم بھی دینی شروع کر دی ہے۔

مغربی بنگال میں تو مدرسے بہترین ماڈل سکول بن گئے ہیں جہاں مذہب کےساتھ ساتھ نہ صرف جدید تعلیم دی جاتی ہے بلکہ انھیں سبھی مذاہب کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

بہت سی مسلم تنظیمیں ایک عرصے سے مدرسوں کو تعلیم کے حق کے قانون سے الگ رکھنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبہت سی مسلم تنظیمیں ایک عرصے سے مدرسوں کو تعلیم کے حق کے قانون سے الگ رکھنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں

وہاں بیشتر مدرسوں میں لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ پڑھتے ہیں اور ٹیچرز اور طلبا میں ایک بڑی تعداد ہندوؤں کی ہے۔

بہت سی مسلم تنظیمیں ایک عرصے سے مدرسوں کو تعلیم کے حق کے قانون سے الگ رکھنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

جماعت اسلامی اور جو دیگر مسلم تنظیمیں مہاراشٹر حکومت کے فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں وہ درحقیقیت ان بچوں کے مستقبل کو نقصان پہنچا رہی ہیں جو تعلیم کے ذریعے اپنا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

پرانے طرز کی تعلیم ، غیر تربیت یافتہ ٹیچرز اور غیر تسلیم شدہ کتابوں کو پڑھا کر مدرسے کے بچوں کو مستقبل کے لیے نہیں تیار کیا جا سکتا۔

مسلمانوں کی کئی تنظیمیں اور ادارے تعلیم کے حق کے قانون کی بھی مخالفت کر رہی ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ حکومت نے سکول کے لیے جو معیار اور پیمانے مقرر کیے ہیں ان پر ان کے مدرسے پورا نہیں اترتے اور بیشتر بچے موقع ملتے ہی دوسرے سکولوں میں چلے جائیں گے۔

مسلم امور کے ماہرین اور سماجی کارکنوں خیال ہے اگر ان مسلم تنظیموں کو مسلمان بچوں کے مستقبل کی فکر ہے تو ان کےلیے مدرسوں کا دفاع کرنے کی بجائے نئے سیکیولر طرز کے سکول کھولنے اور حکومت پر اپنے علاقوں میں زیادہ سکول کھولنے کے لیے دباؤ ڈالنے پر زور دینا چاہیے کیونکہ مسلمانوں کو آگے بڑھنے کے لیے جدید طرز کے سکولوں کی ضرورت ہے مدرسوں کی نہیں۔