استاد اور طلبہ دونوں ہندو، یہ کیسا مدرسہ ہے؟

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بھارت کی مغربی بنگال ریاست کے بردھمان ضلعے کے ایک مدرسے میں ایک مولوی طالب علموں کو قرآن اور اسلام کے بارے میں درس دے رہے ہیں۔
یہاں غیر معمولی بات یہ ہے کہ اس کلاس کے زیادہ تر طلبہ مسلمان کے بجائے ہندو ہیں۔
اورگرام چتسپلّي کے اس مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والے 1400 طلبہ و طالبات میں سے 60 فیصد سے زیادہ ہندو ہیں۔
مدرسے کے پرنسپل انور حسین کہتے ہیں: ’مدرسے کے بارے میں جو روایتی خیال تھا وہ اب بدل چکا ہے۔ یہاں آنے کے بعد سب کو احساس ہو جاتا ہے کہ مذاہب کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔‘
اس مدرسے کو صدر جمہوریہ سے انعام مل چکا ہے۔
13 سالہ سجاتا ہلدر اسلاميات کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ اپنے مدرسے سے بہت خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہاں ٹیچر بہت خیال رکھتے ہیں اور ہمیں کسی قسم کی تفریق کا احساس نہیں ہوتا۔‘
دوسری جانب مسلم طلبہ بھی ان مدرسوں سے خوش ہیں۔

،تصویر کا ذریعہbbc
ایک طالبہ شنجيني کہتی ہیں: ’دوسرے مذاہب کے طالب علموں کی موجودگی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ ہم ایک دوسرے کے بارے میں سیکھتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مغربی بنگال میں 600 سے زیادہ مدرسے حکومت سے منظور شدہ ہیں۔
ان جدید قسم کے مدرسوں میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ بڑی تعداد میں ہندو طلبہ و طالبات ان مدرسوں کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
بہت سے مدارس میں ہندو طلبہ کی تعداد مسلم طالب علموں سے کہیں زیادہ ہے۔
دينيات یا اسلام کے مطالعے کے علاوہ ان مدارس کا نصاب سیکیولر حیثیت کا حامل ہے اور جدید تعلیم کا معیار بلند ہے۔
ندیا ضلعے کے ملّا یاد علی مدرسے کے ہندو استاد تپن چکرورتی کہتے ہیں: ’ہمارا معیار زیادہ بلند ہے اور ہمارے مدرسے کے بچے باہر بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔‘
استانی جھوما مکھرجی کہتی ہیں کہ شروع میں ہندو والدین کو اسلامی تعلیم کے بارے میں بعض خدشات ضرور تھے لیکن اب وہ دور ہو گئے ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’مدرسے کے ماحول اور اسلام کی تعلیم کے بارے میں بعض لوگوں کے درمیان کچھ شک و شبہات تھے لیکن مدرسے میں آنے کے بعد وہ بھی دور ہو گئے۔‘
مغربی بنگال میں مدارس کے نصاب کی تجدید کا کام سابق کمیونسٹ حکومت نے کیا ہے۔
ان مدرسوں میں آج چار لاکھ سے زیادہ بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں ہندو طالب علم بھی ہیں۔
یہ طالب علم نہ صرف دوسرے سکولوں سے مقابلہ کر رہے ہیں بلکہ مدارس اور اسلام کی ایک مثبت تصویر بھی پیش کر رہے ہیں۔







