بھارتی وزیرِ تعلیم کی ڈگری کے بارے تحقیقات

سمرتی ایرانی بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی کابینہ کی سب سے کم عمر وزیر ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسمرتی ایرانی بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی کابینہ کی سب سے کم عمر وزیر ہیں

دہلی کی ایک عدالت نے کہا ہے کہ وہ ایک شکایت کا جائزہ لے گی جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ بھارت کی وزیرِ تعلیم سمرتی ایرانی نے اپنی ڈگری کے بارے میں مبینہ طور پر جھوٹ بولا ہے۔

میجسٹریٹ کا کہنا ہے کہ عدالت 28 اگست کو پیش کیے جانے والے ثبوت کا جائزہ لے گی کہ آیا یہ الزامات صحیح ہیں یا نہیں۔

بھارت کی وزیرِ تعلیم کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست میں درخواست گزار کا کہنا ہے کہ سمرتی ایرانی نے مختلف برسوں میں الیکشن کمیشن کے سامنے اپنی تعلیمی قابلیت کے بارے میں متضاد معلومات فراہم کیں۔

خیال رہے کہ بھارت میں عام آدمی پارٹی سے تعلق رکھنے والے جیتیندر سنگھ تومر نے جعل سازی اور دھوکہ دہی کے الزامات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ جیتیندر سنگھ تومر پر جعلی ڈگری رکھنے کا الزام عائد ہونے کے بعد انھیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ بدھ کو عدالت کا یہ اعلان سابق ٹی وی اداکارہ کے لیے دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے۔

سمرتی ایرانی بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی کابینہ کی سب سے کم عمر وزیر ہیں۔ انھوں نے ابھی تک خود پر عائد کیے جانے والے الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

سمرتی ایرانی کے خلاف یہ درخواست ادیب احمر خان نے دائر کی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ سمرتی نے انتخابی حلف ناموں میں ’غلط بیانی‘ کی ہے۔

احمر خان نے سمرتی پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے سنہ 2004 کے انتخابات میں یہ کہہ کر حصہ لیا تھا کہ انھوں نے دہلی یونیورسٹی کے سکول آف کورسپانڈنس سے سنہ 1996 میں آرٹس کی ڈگری حاصل کی ہے۔

احمر خان کے مطابق سمرتی ایرانی نے گذشتہ عام انتخابات میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ انھوں نے اسی یونیورسٹی سے کامرس کی ڈگری لی ہے۔