اپنے ہی بچوں کا ریکارڈ توڑ دیا!

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
حکومت ہند نے یوگا ڈے پر جو نیا عظیم الشان عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے، اس پر خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ لیکن نیا ریکارڈ بنانے کے لیے پرانا ریکارڈ توڑنا پڑتا ہے اور آپ شاید سوچ رہے ہوں گے کہ وہ دنیا کی کون سی طاقت ہے جس کا ریکارڈ توڑنے کے لیے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑا؟
پرانا ریکارڈ وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں سکولوں کے بچوں نے مل کر قائم کیا تھا۔ دس سال پہلے تقریباً 30 ہزار بچوں نے گوالیار یونیورسٹی میں ایک ساتھ یوگا کیا تھا، اس لیے ذہن میں یہ سوال تو آتا ہی ہے کہ اپنے ہی بچوں کا ریکارڈ توڑنے کی کیا ضرورت تھی؟
لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوالات ہیں کہ آخر بھارت کے نائب صدر حامد انصاری کو یوگا ڈے کی تقریب میں کیوں مدعو نہیں کیا گیا؟ حزب اختلاف کے زیادہ تر رہنماؤں نے کیوں اس تقریب میں شرکت نہیں کی؟ بی جے پی کے صدر امت شاہ کیوں پورے وقت کرسی پر بیٹھے رہے؟ راج پتھ پر عام لوگوں کو کیوں شرکت کی اجازت نہیں تھی، جنھیں بلایا گیا تھا کیا انھیں نہ آنے کی بھی اجازت تھی۔۔۔؟
یوگا صحت کے لیے اچھا ہے یہ تو زیادہ تر لوگ مانتے ہیں، لیکن اپنی صحت کا لوگ کیسے خیال رکھنا چاہتے ہیں، انھیں یہ فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ جو لوگ کرسی پر بیٹھ کر یوگا دیکھنا چاہتے ہیں ان کا بھی استقبال ہو، جو ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر امن کا پیغام دینا چاہتے ہیں ان کا بھی استقبال ہو۔
بنگلہ دیش سے ہارنے میں اتنی شرم کیوں؟

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارتی کرکٹ ٹیم بنگلہ دیش سے ایک روزہ میچوں کی سیریز کیا ہار گئی، ایسا لگتا ہے کہ جیسے طوفان آگیا ہو۔ مہندر سنگھ دھونی نے کپتانی چھوڑنے کی پیش کش کی ہے جیسے بنگلہ دیش سے ہارنے سے بڑی کوئی توہین نہ ہو۔ بنگلہ دیش آئی سی سی کا مکمل رکن ہے، اس سے پہلے بھی ہندوستان سمیت دنیا کی بہترین ٹیموں کو ہرا چکا ہے، یہ غلط مثال ہوگی، ٹیم کے غیر ملکی دوروں میں تو پھر ہر میچ کے بعد کپتان بدلنا پڑے گا۔
دھونی کو بھی یوگا کا سہارا لینا چاہیے، ہمارا مشورہ ہے کہ وہ ایک گہری سانس لیں اور چھوڑ دیں۔
ویسے بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر استعفیٰ دینا زیادہ سمجھداری کی بات نہیں۔ دھونی کو بی جے پی کی اعلیٰ ترین قیادت سے سبق لینا چاہیے۔
وزیر خارجہ سشما سواراج نے آئی پی ایل کے سابق کمشنر للت مودی کی سفری دستاویزات حاصل کرنے میں مدد کی حالانکہ وہ خود ان کی حکومت کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو مطلوب تھے، لیکن وہ استعفیٰ دینے سے انکار کر رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
اسی طرح راجستھان کی وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے اور ان کے بیٹے کے للت مودی سے روابط بھی شک کے دائرے میں ہے، الزامات کی نوعیت سنگین ہے لیکن وہ بھی مستعفی ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ممبئی پولیس کے کمشنر راکیش ماریا نے لندن میں للت مودی سے ملاقات کی کیونکہ ’مودی کے وکیل اصرار کر رہے تھے‘ انھیں بھی اس میں کوئی خاص یا قابل اعتراض بات نظر نہیں آتی۔۔۔ استعفیٰ دینے کی کوئی ٹھوس وجہ ہونی چاہیے، صرف جذبات میں یا حزب اختلاف کے دباؤ میں استعفیٰ دینا کوئی سمجھداری کی بات نہیں۔







