’ہم صرف غیر مسلموں کو ہی نوکری دیتے ہیں‘

نوجوان کا نام ذیشان علی خان ہے اور ان کی شکایت پر پولیس نے کمپنی کے خلاف مقدمہ قائم کر لیا ہے

،تصویر کا ذریعہTWITTER

،تصویر کا کیپشننوجوان کا نام ذیشان علی خان ہے اور ان کی شکایت پر پولیس نے کمپنی کے خلاف مقدمہ قائم کر لیا ہے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

بھارت کے تجارتی مرکز ممبئی میں ہیروں کا کاروبار کرنے والی ایک کمپنی نے مبینہ طور پر ایک نوجوان کو مسلمان ہونے کی وجہ سے نوکری دینے سے انکار کر دیا ہے۔

نوجوان کا نام ذیشان علی خان ہے اور ان کی شکایت پر پولیس نے کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ذیشان نے حال ہی میں ایم بی اے مکمل کیا ہے۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے دو دوستوں کے ساتھ اس کمپنی میں نوکری کے لیے درخواست بھیجی تھی لیکن انھیں صرف 15 منٹ کے اندر ہی کمپنی سے جواب مل گیا۔

ذیشان نے اپنے فیس بک پیج پر کمپنی کی ای میل کا سکرین شاٹ شائع کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’آپ کی درخواست کے لیے شکریہ لیکن ہمیں افسوس ہے کہ ہم صرف غیر مسلموں کو ہی نوکری دیتے ہیں۔‘

بدھ کو کمپنی کے ایک سینیئر افسر کی جانب سے ذیشان کو ایک ای میل موصول ہوئی جس میں اس واقعے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ہم رنگ نسل مذہب یا جنس کی بنیاد پر امیدواروں میں تفریق نہیں کرتے، آپ کو اگر کوئی تکلیف پہنچی ہے تو اس کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں۔‘

ذیشان کے والد نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے’سب کا ساتھ اور سب کی ترقی‘ کا نعرہ دیا تھا لیکن اگر بچوں کے ساتھ اس طرح امتیاز کیا جائے تو کوئی اپنے بچوں کو کیوں پڑھائے گا؟

ذیشان نے اپنے فیس بک پیج پر کمپنی کی ای میل کا سکرین شاٹ شائع کیا ہے

،تصویر کا ذریعہSHEHZAD POONAWALA

،تصویر کا کیپشنذیشان نے اپنے فیس بک پیج پر کمپنی کی ای میل کا سکرین شاٹ شائع کیا ہے

سوشل میڈیا پر بھی کمپنی کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ سیاسی حلقوں میں بھی کمپنی کے فیصلے پرسخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

کانگریس کے سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے، صرف وزیر اعظم کا یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ سب کے ساتھ انصاف ہو گا، بہت سے لوگوں کو اب یہ لگتا ہے کہ وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ایک بڑی بھول تھی جس کے لیے حال ہی میں بھرتی کی جانے والی ایک لڑکی ذمہ دار ہے۔ جسے ابھی ٹریننگ دی جا رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق ممبئی میں ان کے دفتر میں 61 ملازمین ہیں اور ان میں سے ایک مسلمان ہے۔

پولیس کے مطابق اس کیس میں جرم ثابت ہونے پر قصوروار افراد کو تین سال کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

ممبئی اور ملک کے کئی دوسرے شہروں میں مسلمانوں کو مکان نہ دینے کے واقعات بھی اکثر سرخیوں میں آتے رہتے ہیں اور عام طور پر سمجھا جاتا ہےکہ لوگ ہندو آبادیوں میں مسلمانوں کو مکان دینے سے گریز کرتے ہیں۔