کشمیر میں پاسپورٹ سب سے بڑا سرکاری گفٹ

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر
بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے 86 سالہ علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی اُن 40 ہزار کشمیریوں میں شامل ہوگئے ہیں جنھیں پاسپورٹ حاصل کرنے میں سرکاری اعتراضات کا سامنا ہے۔
سید علی گیلانی کی بیٹی سعودی عرب میں علیل ہیں اور وہ ان کی مزاج پرسی کے لیے وہاں جانا چاہتے ہیں۔ کئی ماہ سے ان کی طرف سے پاسپورٹ کی درخواست متعلقہ حکام کے پاس التوا میں پڑی ہے۔
گذشتہ روز منگل کو جب بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی کشمیری شاخ نے گیلانی کو پاسپورٹ نہ دینے کی پرزور سفارش کی، تو نئی دہلی اور سرینگر میں یہ ایک سیاسی مسئلہ بن گیا۔
بی جے پی کے ایک مقامی ترجمان خالد جہانگیر نے کہا: ’جب گیلانی پاکستان نواز حرکتیں بند نہیں کرتے انھیں پاسپورٹ نہیں دیا جانا چاہیے۔‘
دریں اثنا بی جے پی کی ہی حمایت سے قائم کشمیر کی حکومت بھی تذبذب کا شکار ہے۔
حکمران جماعت پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بدھ کو کہا:’بھارت دنیا کا واحد ملک جہاں رشتوں کی پوجا کی جاتی ہے۔رشتوں کی یاد میں تہوار منائے جاتے ہیں۔ کوئی حرج نہیں کہ گیلانی صاحب سعودی عرب جائیں اور اپنی بیمار بیٹی سے ملیں۔‘
اس بیان سے ایک بار پھر حکمران اتحاد میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔
اس دوران کئی قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سید علی گیلانی بالکل اسی طرح اپنے سفری حق کی معطلی پر قانونی کاروائی کرسکتے ہیں جس طرح مینکا گاندھی نے پاسپورٹ نہ دیے جانے کی صورت میں سپریم کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کے اتحاد کولیشن آف سول سوسائیٹیز کے سربراہ پرویز امروز بھی 11 سال سے پاسپورٹ کے منتظر ہیں۔
انھیں چند برس قبل فرانس کی ایک انجمن انسانی حقوق کی ترجمانی کے لیے اعزاز سے نوازا لیکن وہ فرانس نہیں جا پائے۔
پرویز امروز نے بی بی سی کو بتایا: ’میں سیاستدانوں کی بات نہیں کروں گا۔ اپنی بات بھی نہیں کروں گا، کیونکہ انسانی حقوق کی بات کو حکومت پسند نہیں کرتی، ظاہر ہے مجھے پاسپورٹ نہِیں دیا جائے گا۔ لیکن یہاں 40 ہزار لوگ ہیں جن کی فہرست بنائی گئی ہے اور مختلف بہانوں سے ان کے سفری حق کو معطل کردیا گیا ہے۔‘
پرویز امروز کہتے ہیں پاکستانی زیرانتظام کشمیر میں بالکل برعکس حالات ہیں۔
’وہاں کے کشمیر میں رہنے والوں کو نہ صرف پاسپورٹ کی سہولات آسان لوازمات کے ساتھ میسر ہیں، بلکہ ان کے پاسپورٹ پر ان کی شہریت پاکستانی نہیں بلکہ سابق جموں کشمیر ریاست کے طور درج کی جاتی ہے۔‘
پرویز امروز نے بتایا کہ پاکستانی کشمیر کے پانچ لاکھ شہری یورپ، امریکہ اور مختلف خلیجی ممالک میں تعلیم اور تجارت میں مصروف ہیں جبکہ بھارتی کشمیر کے تاجروں اور طالب علموں کو پولیس تھانوں کے چکر کاٹنا پڑتے ہیں۔
امروز کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے والوں کی اکثریت کو بیرون ملک سفر کی اجازت نہیں دی جاتی ہے اور بسا اوقات حج پر جانے والے زائرین کو جہاز سے واپس اُتار لیا جاتا ہے۔
انھوں نے حکومت ہند پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال میں حکومت مخالف حلقوں اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کو پاسپورٹ دیا جاتا ہے اور وہ دوسرے ملکوں میں اپنی حکومتوں کی تنقید بھی کرتے ہیں۔
امروز کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم عاصمہ جہانگیر اور دوسرے لوگوں کو پاکستان ہندوستان آنے کی اجازت دیتا ہے اور یہاں آ کر وہ پاکستانی حکومت کے خلاف بولتے ہیں حتیٰ کہ ریپ کا شکار مختاراں مائی کو تو امریکہ جانے کی اجازت دی گئی جہاں وہ سٹار بن گئیں۔

’لیکن حکومت ہند طلبا، پیشہ ور افراد، رشتہ داروں وغیرہ کو پاسپورٹ سے محروم رکھ رہی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ہندوستان جمہوری ملک ہونے کے باوجود ڈرتا ہے کہ کہیں کوئی کشمیری بیرون ملک جا کر یہاں کی زمینی صورت حال کو آشکار نہ کر دے۔ اسی لیے ان لوگوں کو پاسپورٹ دیے جاتے ہیں جن سے انھیں یہ خطرہ لاحق نہیں ہوتا‘۔
معروف معالج اور تبصرہ نگار ڈاکٹر ظفر مہدی نے اس موقع پر بتایا: ’میں ایک ڈاکٹر ہوں۔ سات سال پہلے سرکاری نوکری سے ریٹائر ہوگیا ہوں۔ مجھے پاسپورٹ نہیں دیا جا رہا۔ میرا قصور یہ ہے کہ حکومتی ادارے یا این جی اوز مجھے سیمینار میں بلاتے ہیں تو میں یہ کہتا ہوں کشمیریوں کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔ لیکن آج یہی بات عمرعبداللہ، مفتی سعید اور فاروق عبداللہ بھی کہتے ہیں۔‘
ڈاکٹر مہدی نے بتایا کہ یہ رویہ سراسر ہندوستانی آئین کی دفعہ بارہ کی خلاف ورزی ہے۔ اس دفعہ کے مطابق ہر بھارتی شہری کو کسی بھی ملک میں آنے جانے کا حق حاصل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بھارت سیدھے کیوں نہیں کہتا کہ وہ ہمیں بھارتی شہری تصور ہی نہیں کرتا ہے۔ اگر ہم قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں تو ہمیں کسی دوسرے ملک بھیج دیں ہم وہاں پناہ لے لیں گے۔‘
کشمیر میں سرگرم انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ فلسطین کوئی تسلیم شدہ ریاست نہیں ہے لیکن فلسطینی انتظامیہ کو اختیار ہے کہ وہ شہریوں کو پاسپورٹ دے۔
’یہاں تو عجیب جمہوریت ہے۔ یہاں کے پولیس افسر پاسپورٹ حکام کو کہتے ہیں کہ پاسپورٹ پر ایکسیپٹ پاکستان یعنی پاکستان کے علاوہ لکھیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ کشمیریوں کو دی جانے والی اجتماعی سزا کا حصہ ہے۔‘
ایک اور مثال 20 سالہ بشارت بابا کی ہے۔ وہ اُن ہزاروں کشمیری نوجوانوں میں سے ہیں جن کا ماضی ان کی ترقی کے آڑے آرہا ہے۔
اُبھرتے ہوئے فٹ بال کھلاڑی بشارت سات سال قبل برازیل میں ہوئے فٹ بال کے مقابلے کے لیے منتخب ہوئے تھے، لیکن انہیں محض اس لیے پاسپورٹ نہیں ملا کہ ان کے والد ایک مسلح گروپ سے ساتھ وابستہ تھے۔

حالانکہ ان کے والد تشدد کا راستہ ترک کرکے جیل بھی کاٹ چکے ہیں اور اب تجارت میں مصروف ہیں، لیکن بشارت اپنے ماضی کو اپنی زندگی کی بڑی روکاٹ سمجھ رہے ہیں۔
حالانکہ اُس وقت کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کی مداخلت کے بعد بشارت کو پاسپورٹ مل گیا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ بشارت کی زندگی پر بھارتی فلم ساز اشوِن کمار نے ’انشااللہ فٹ بال‘ عنوان سے جو فلم بنائی ہےان کی نمائش پر حکومت ہند نے پابندی عائد کردی ہے۔
بشارت کہتے ہیں: ’میرے والد جب شدت پسند تھے میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ یہ بات مجھے پاسپورٹ دفتر میں معلوم ہوئی۔ مجھے حیرانی ہوئی کہ میرے والد کی خطا پر مجھے سزا کیوں دی جا رہی ہے۔‘
اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟ اس بارے میں پرویز امروز کا کہنا ہے کہ کشمیر میں حالات سدھارنے کا کوئی بھی عمل تب تک کامیاب نہیں ہوگا جب حکومت ہند عام معافی کا اعلان نہیں کرتی۔ ’جب لوگوں کو اجتماعی سزا دی جارہی ہو تو امن عمل کا کیا ہوگا؟‘
صحافی طارق علی میرکہتے ہیں: ’پاسپورٹ ملنا یہاں ایک عظیم کامیابی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لوگ مبارکباد دیتے ہیں۔ برسوں خفیہ ایجنسیوں کے چکر کاٹ کر ایک شہری کے بارے میں تحقیقاتی عمل مکمل ہو جاتا ہے۔ اور کچھ لوگوں کو بہت جلدی مل جاتا ہے۔ پاسپورٹ تو یہاں سب سے بڑا سرکاری گفٹ ہے۔‘








