اختلافات پر قابو پانا ہو گا تاکہ باہمی تعلقات میں رکاوٹ نہ بنیں: چین

،تصویر کا ذریعہAFP
چین کے صدر شی جی پنگ نے کہا ہے کہ چین اور بھارت کو باہمی تعاون اور اختلافات پر قابو پا کر اعتماد مضبوط کرنا ہو گا۔
چین کی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چینی صدر نے مزید کہا ’ہمیں مل کر باہمی اعتماد بہتر کرنا ہو گا، اختلافات اور مسائل پر کنٹرول کرنا ہو گا تاکہ یہ ہمارے باہمی تعلقات میں رکاوٹ نہ بنیں۔‘
چین کے وزیر اعظم لی كي چيانگ نے بھی انھی جذبات کا اظہار کیا۔
انھوں نے بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ چین اور بھارت کو سیاسی اعتماد مضبوط کرنا ہوگا تا کہ دونوں مل کر ایک بہتر بین الاقوامی نظام تعمیر کر سکیں۔
نریندر مودی چین کے تین روزہ دورے پر ہیں جہاں انھوں نے چین کے ساتھ 24 معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
ان معاہدوں میں بھارتی اور چینی ریلوے کے درمیان ریلوے کی ترقی، بھارتی ٹی وی چینل دوردرشن اور چینی سی سی ٹی وی کے درمیان نشریات، سیاحت کو فروغ، ڈیولپمنٹ ریسرچ سینٹر اور پالیسی کمیشن جیسے شعبے شامل ہیں۔
اس سے قبل چینی صدر شی جی پنگ نے نریندر مودی کے درمیان بھی ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور اعتماد قائم کرنے حوالے سے بات چیت کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان متوازن تجارت اور سرحدی تنازعے جیسے بڑے مسائل پر بھی بات ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ چین اوربھارت کے درمیان 1962 میں سرحدی تنازعات پر جنگ ہوچکی ہے جب کہ چین اور بھارت کے درمیان کئی علاقوں پر ملکیت کے تنازعات بھی ہیں۔
چین بھارتی ریاست ارونچل پردیش کو اپنا علاقہ قرار دیتا ہے جب کہ بھارت کا اصرار ہے کہ شمال مغربی علاقہ اکسائی چن پر چین نے قبضہ جما رکھا ہے۔ دوسری جانب بحر ہند میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے بھارت پریشانی کا شکار ہے۔







