بھارت میں نہ ارونچل پردیش نہ جموں و کشمیر

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ چین کے دوران وہاں کے بڑے نشریاتی ادارے ’سی سی ٹی وی‘ پر بھارت کا الگ نقشہ دکھائے جانے کا مسئلہ طول پکڑتا دکھائی دے رہا ہے۔
سی سی ٹی وی نے اپنے ایک پروگرام میں بھارت کا جو نقشہ دکھایا ہے اس میں نہ تو ارونچل پردیش دکھایا گیا اور نہ ہی جموں وکشمیر۔
اس تنازعے کے آغاز سے قبل دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات بنتے دکھائی دے رہے تھے۔
دن میں دکھائی گئی فوٹیج میں نریندر مودی اور شی جی پنگ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چل رہے تھے، لیکن شام کو اچانک موسم بدلتا نظر آنے لگا۔
چین میں بھارتی نژاد صحافی ایس ڈی گپتا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’چین کے بڑے نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے اپنے پروگرام میں بھارت کا جو نقشہ دکھایا اس میں نہ ارونچل پردیش کو دکھایا اور نہ ہی جموں اور کشمیر۔‘
’ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ کشمیر کے معاملے میں چین کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ ہمیں اس سے مطلب نہیں۔ آپ اسے پاکستان کے ساتھ سلجھائیے، لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی مسئلہ کشمیر میں دخل دے رہا ہے، ظاہر ہے کہ نریندر مودی اس پر مخالفت ظاہر کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
جمعہ کو بھارت اور چین کے درمیان سرحدی معاملات پر بات ہونی ہے۔
صحافی ایس ڈی گپتا کا کہنا ہے کہ ’جب آپ نقشے سے ہی نکال دیتے ہیں تو بارڈر پر کیا بات کریں گے؟ ہاں، یہ الگ بات ہے کہ اگر کل سی سی ٹی وی صحیح نقشہ دکھا دے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صحافی ایس ڈی گپتا نے بتایا کہ دو دن پہلے چین کے ایک اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ میں شنگھائی کے ایک محقق نے بھارت اور مودی کے بارے میں بہت اشتعال انگیز زبان میں بات کی۔ لیکن اس کے بعد گلوبل ٹائمز نے اپنی ویب سائٹ سے اس آرٹیکل کو نکال ديا اور بھارت کے حق میں دو آرٹیکل شائع کر دیے۔
ارونچل پردیش کے حوالے سے بھارت اور چین میں ہمیشہ سے تنازع رہا ہے، بھارت کی ریاست ارونچل پردیش پر چین اپنا دعویٰ کرتا رہا ہے۔







