’سرکاری اشتہارات میں حکمرانوں کی تصاویر پر پابندی‘

سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ بدھ کو مفاد عامہ میں داخل کی گئی عرضی اور اپنی کمیٹی کی تجاویزات کی روشنی میں سنایا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ نے یہ فیصلہ بدھ کو مفاد عامہ میں داخل کی گئی عرضی اور اپنی کمیٹی کی تجاویزات کی روشنی میں سنایا

بھارت میں سپریم کورٹ نے بدھ کو ایک فیصلے میں کہا ہے کہ سرکاری اشتہارات میں حکمراں جماعت کے رہنماؤں یا سرکردہ شخصیات کی تصاویر شائع نہیں کی جا سکتیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس دینے والوں کے پیسوں کو ’شخصیت پرستی یا شخصیت نوازی‘ کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت عظمی نے کہا کہ ایسی تصاویر سے حکومت کی پالیسی کے بجائے غیر ضروری طور پر توجہ کسی فرد کی جانب منتقل ہو جاتی ہے اور اس سے شخصیت پرستی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

بہرحال سپریم کورٹ نے اس فیصلے سے تین لوگوں کو مستثنی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم، صدر اور چیف جسٹس کی تصاویر کا سرکاری اشتہارات میں استعمال ہو سکتا ہے۔

تاہم سپریم کورٹ نے کہا ہے ان کی تصاویر شائع کرنے سے قبل ان کی رضامندی لازمی ہے۔

بھارت کے علاوہ دنیا کے بیشتر ممالک میں شخصیت پرستی کا رجحان نظر آتا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنبھارت کے علاوہ دنیا کے بیشتر ممالک میں شخصیت پرستی کا رجحان نظر آتا ہے

اس کے علاوہ اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اور بھارت کے ’فادر آف نیشن کہے جانے والے رہنما مہاتما گاندھی کی تصاویر کی اشاعت کی اجازت بھی دی ہے۔

یہ فیصلہ جسٹس رنجن گوگوئی اور این وی رمن کی ایک بنچ نے دیا ہے۔ فیصلے کی بنیاد سپریم کورٹ کی ایک کمیٹی کی تجاویزات ہیں جو ماہر تعلیم این ایس مادھو مینن کی قیادت میں حکومت کے مالی تعاون سے دیے جانے والے اشتہارات پر غور خوض کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔

اس کمیٹی کا قیام اپریل سنہ 2014 میں ایک مفاد عامہ کے ذیل میں داخل کی جانے والی اپیل کے بعد عمل میں آیا تھا۔

این جی او کامن کاز نے یہ اپیل داخل کی تھی کہ برسراقتدار حکومت کے رہنما اور وزرا عوام کے پیسے کا غیر ضروری فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

بھارت میں ریاست کے وزیر اعلی اور مختلف شعبوں کے وزرا کی تصاویر مختلف سرکاری اشتہارات میں نظر آتی ہیں

،تصویر کا ذریعہPIB

،تصویر کا کیپشنبھارت میں ریاست کے وزیر اعلی اور مختلف شعبوں کے وزرا کی تصاویر مختلف سرکاری اشتہارات میں نظر آتی ہیں

مینن کی سربراہی والی ٹیم نے تصاویر کی اشاعت پر مکمل پابندی کی تجویز پیش کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ انتخابات سے قبل والی شام کسی اشتہار کی اشاعت کی اجازت نہ دی جائے۔

لیکن سپریم کورٹ کی بنچ نے ان میں بعض ترامیم کیں اور مکمل پانبدی کی تجویز کو قبول نہ کرتے ہوئے تین لوگوں کی تصاویر کی ان کے مرضی کے بعد اشاعت کی بات کہی۔

اسی طرح اس نے انتخابات سے قبل پابندی کی تجویز بھی قبول نہیں کیا اور ان سرکاری اشتہارات کی کارکردگی یا اثرات کا جائزہ لینے والے پینل قائم کرنے کی تجویز بھی قبول نہ کی۔