انٹر نیٹ پر قابل اعتراض مواد، گرفتاری کی دفعہ ختم

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا کی سپریم کورٹ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اس متنازعہ دفعہ کو ختم کردیا ہے جس کے تحت پولیس کو انٹرنٹ پر ’قابل اعتراض‘ آراء کے اظہار پر لوگوں کو گرفتار کرنے کا حق حاصل تھا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 66 اے غیرآئینی تھی۔
انڈیا میں گزشتہ کئی برسوں میں ایسے مقدمات سامنے آئے ہیں جن میں فیس بک اور ٹوئٹر پر اظہار رائے کی بیناد پر متعدد افراد کو گرفتار کیا گيا تھا جس کے بعد حکومت کی بے حد تنقید ہوئی تھی۔
حکومت نے اس قانون کا یہ کہ کر دفاع کیا ہے کہ اس کا مقصد لوگوں کو انٹرنٹ پر قابل اعتراض مواد شائع کرنے سے روکنا ہے۔
عدالت میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور دلی یونیورسٹی کےبعض طلباء نے عرضي دائر کی تھی اور اپنی عرضي میں کہا تھا کہ یہ دفعہ اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے جسٹس آر ایف نریمن کے حوالے سے کہا ہے ’دفعہ 66 اے غیر آئینی ہے اور ہمیں اس کو ختم کرنے میں کوئی ہچکچہاٹ نہیں ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’اس دفعہ سے لوگوں کے اطلاعات کے حصول کا حق براہ راست متاثر ہوتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
ان کا کہنا تھا کہ اس دفعہ کے تحت پولیس کو لامحدود اختیارات حاصل تھے۔ پولیس کسی بھی شخص کو صرف اس بنیاد پر گرفتار کرسکتی تھی کہ ان کے ذریعے انٹرنٹ پر شائع کیے پیغام یا ای میل سے کسی کو ’ تکلیف پہنچی ہے یا ناراضگی‘ ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس قانون کو عدالت میں سب سے پہلے قانون کے دو طالب علموں نے اس وقت چیلنج کیا تھا جب سنہ 2012 میں بال ٹھاکرے کے انتقال کے بعد دو نوجوان لڑکیوں کو انٹرنٹ پر ؛ قابل اعتراض کلمات شائع کرنے پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔
شاہین دادا کو اس لیے گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ انھوں نے بھال ٹھاکرے کی موت کے بعد ممبئی میں ہونے والے شٹ ڈاؤن پر اعتراض کیا تھا جبکہ رینو شرینواسن کو ان کے کلمات کو پسند کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ حالانکہ ان دونوں کو بعد میں ضمانت مل گئی تھی ۔
ان کی گرفتاری کے بعد حکومت پر بے حد تنقید ہوئی تھی اور حکومت پر اس دفعہ کو ختم کرنے کا دباؤ بڑھ گیا تھا۔
ایسے ہی ایک معاملے میں اسی برس سترہ مارچ کو ریاست اترپردیش میں سماجوادی پارٹی کے لیڈر اعظم خان کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے ایک کم عمر بچی کو جیل بھیج دیا گیا۔ حالانکہ ان کو بعد میں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔
سنہ 2012 میں جنوبی شہر پونڈی چیری میں اس وقت کے وزیر خزانہ پی چدامبرم کے بیٹے کو تنقید کا نشانہ بنانے پر ایک 46 سالہ تاجر کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ بعد میں ان کو ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔
سنہ 2012 میں ہی ممبئی میں بدعنوانی کے خلاف کارٹون بنانے والے کارٹونسٹ کو ملک کے خلاف بغاوت کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا حالانکہ بعد میں ان پر عائد الزامات واپس لے لیے گئے تھے۔
منگل کو آنے والے فیصلے کے بعد ٹوئٹر اور فیس بک پرعدلیہ کی بے حد تعریف کی جارہی ہے۔
دلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔







