بھارت: کوئلہ سکینڈل میں منموہن سنگھ عدالت میں طلب

اگر منموہن سنگھ قصوروار پائے جاتے ہیں تو انہیں سزا ہو سکتی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناگر منموہن سنگھ قصوروار پائے جاتے ہیں تو انہیں سزا ہو سکتی ہے

بھارت میں ایک عدالت نے کوئلے کی کان کنی کے لائسنسوں کی تقسیم سے متعلق بدعنوانی کے ایک کیس میں سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کو طلب کیا۔

منموہن سنگھ کے علاوہ پانچ اور اہلکاروں کو طلب کیا گیا ہے اور ان پر مجرمانہ سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ عدالت نے آٹھ اپریل کو ان افراد کو طلب کیا ہے۔

بدھ کو عدالت کی جانب سے طلب کیے جانے کے بارے میں ہنڈلکو انڈسٹریز نے تو بیان دینے سے انکار کر دیا لیکن کانگریس پارٹی کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم نے شفاف طریقے سے حکومت چلائی اور عدالتی کارروائی میں جیت ہماری ہی ہوگی۔‘

وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اور وزیر ماحولیات پرکاش جاوڑیکر کا کہنا ہے اس معاملے کے پیچھے ان کی حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ ’عدالتیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے کہنے پر کام نہیں کرتی ہیں وہ آزادانہ طور پر کام کرتی ہیں۔‘

سال 2012 میں بھارت کے سرکاری نگران ادارے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل ( سی اے جی) نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ نجی کمپنیوں کو کوئلے کی کان کنی کرنے کے لیے زمین اتنے سستے داموں پر دی گئی جس کی وجہ سے ملک کو33 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال تک بھارت میں کانگریس کی حکومت تھی اور منموہن سنگھ ملک کے وزیراعظم تھے جن کے پاس کان کنی کی وزارت کی اضافی ذمہ داری تھی۔

منموہن سنگھ نے دہلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’قانونی تقتیش ‘ کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا آخر میں’فتح سچائی کی ہوگی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ’میں اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے میں کامیاب ہوں گا۔ ہاں، اس وقت میں پریشان ضرور ہوں لیکن یہ سب زندگی کا حصہ ہے۔‘

واضح رہے کہ سی اے جی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد گذشتہ برس سپریم کورٹ نے کان کنی سے متعلق وہ سارے لائسنس منسوخ کر دیے تھے جو 1993 کے بعد تقسیم کیے گئے تھے۔

سپریم کورٹ نے ان سارے لائسنسوں کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا تھا۔

یہ لائسنس کے منسوخ ہونے سے وہ تمام حکومتیں سوالات کے گھیرے میں آئی ہیں جنھوں نے 1993 سے 2010 تک ملک پر حکومت کی، اس میں کانگریس کے علاوہ اس وقت ملک میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی بھی شامل ہے۔

بدھ کو عدالت نے منموہن سنگھ اور دیگر افراد کو ریاست اڑیسہ میں ہنڈلکو انڈسٹری کو 2005 میں دیے گئے لائسنس کے سلسلے میں طلب کیا ہے۔

ان سے اس سے سلسلے میں جنوری میں مرکزی تقتیشی ادارہ سی بی آئی پوچھ گچھ کر چکا ہے۔

عدالت کی جانب سے جن افراد کو طلب کیا گیا ہے ان میں ہنڈلکو انڈسٹریز کے چیئرمین کمار منگلم برلا اور کوئلے کے سابق سیکریٹری پی سی پاریکھ بھی شامل ہیں۔

عدالت کی جانب سے یہ سمن اس کے اس فیصلے کے بعد بھیجے گئے ہیں جس کے تحت اس نے سی بی آئی کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اسے منموہن سنگھ کے خلاف ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں جس کے ان پر مقدمہ چلایا جائے۔

 گذشتہ برس سپریم کورٹ نے کان کنی سے متعلق وہ سارے لائسنس منسوخ کر دیے تھے جو 1993 کے بعد تقسیم کیے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن گذشتہ برس سپریم کورٹ نے کان کنی سے متعلق وہ سارے لائسنس منسوخ کر دیے تھے جو 1993 کے بعد تقسیم کیے گئے تھے

اگر منموہن سنگھ قصوروار پائے جاتے ہیں تو انہیں سزا ہو سکتی ہے حالانکہ دہلی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے اس بات کے امکان کم ہی ہیں۔

بھارت پوری دنیا میں کوئلہ پیدا کرنے والے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے اور اس کی توانائی کی نصف سے زیادہ ضروریات کوئلے سے پوری ہوتی ہیں۔

بھارت میں کوئلے کی کان کنی سے متعلق بدعنوانی کا یہ معاملہ گذشتہ برس ہونے والے انتخابات میں کانگریس کی شکست کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔

ملک کی حزب اختلافات کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ کانگریس کی حکومت نے بغیر نیلامی کے اپنی مرضی سے بڑی کمپنیوں کو سستے داموں میں کان کنی کے لائسنس دے دیے تھے اور یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کو اس کی قیمت انتخابات کے دوران اٹھانی پڑے گی۔

بھارت میں نریندر مودی کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کوئلے کی کان کنی کے لائسنس کی نیلامی کرنے کا عمل دوبارہ شروع کر رہی ہے اور اسے امید ہے کہ شفاف طریقے سے لائسنس تقسیم کر کے وہ کوئلہ انڈسٹری کو ہونے والے نقصان کو پورا کر پائے گی۔