’بھارت میں ہم ہی بی بی سی ہیں‘

بریانی سینٹر کو بیکنگ کمپنی سے ایک لاکھ ڈالر ہرجانہ چاہیے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبریانی سینٹر کو بیکنگ کمپنی سے ایک لاکھ ڈالر ہرجانہ چاہیے

بھارت کے شہر ممبئی میں کھانے کی دو دکانوں نے ’بی بی سی‘ کے مخفف کے استعمال کے حق کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

بوری ولی بریانی سینٹر کا کہنا ہے کہ وہ ہی ’اصل بی بی سی‘ ہے اور یہ سرنامیہ بومبے بیکنگ کمپنی نے چوری کیا ہے۔

بریانی سینٹر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ یہ سرنامیہ عالمی براڈکاسٹ کاپوریشن کا ہے۔

’ایسا بیرون ملک میں ہوگا لیکن بھارت میں ہم ہی بی بی سی ہیں۔‘

بریانی سینٹر کو بیکنگ کمپنی سے ایک لاکھ ڈالر ہرجانہ چاہیے۔

تاہم بیکری کا کہنا ہے کہ اس کو نہیں معلوم کہ مسئلہ کیا ہے۔

یہ بیکری شہر کے مہنگے جے ڈبلیو میریئٹ ہوٹل میں واقع ہے۔

بومبے بیکری کمپنی کا کہنا ہے ’مسئلہ کیا ہے؟ ہمارے نام مختلف ہیں۔ ہم ڈبل روٹی وغیرہ بیچتے ہیں اور وہ بریانی۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبومبے بیکری کمپنی کا کہنا ہے ’مسئلہ کیا ہے؟ ہمارے نام مختلف ہیں۔ ہم ڈبل روٹی وغیرہ بیچتے ہیں اور وہ بریانی۔‘

اس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات میں پڑنا ہی نہیں چاہتے کہ بی بی سی استعمال کرنا صحیح ہے یا غلط۔

دوسری جانب برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) کے لندن میں پریس آفس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔

بمبئی ہائی کورٹ میں پیش مقدمے میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ بریانی سینٹر اور بیکری دونوں ہی فون آنے پر کہتے ہیں ’ہیلو بی بی سی، آپ کا آرڈر کیا ہے؟‘

بریانی سینٹر کا کہنا ہے کہ ایک دہائی سے وہ بوری ولی بریانی سینٹر (بی بی سی) کا نام استعمال کر رہے ہیں جسے انھوں نے 2002 میں رجسٹرڈ کرایا تھا۔

بومبے بیکری کمپنی کا کہنا ہے ’مسئلہ کیا ہے؟ ہمارے نام مختلف ہیں۔ ہم ڈبل روٹی وغیرہ بیچتے ہیں اور وہ بریانی۔‘

بھارت میں کئی ایسی کمپنیاں ہیں جو بی بی سی کا مخفف استعمال کرتی ہیں۔

مثال کے طور پر بہت سے انگریزی سیکھانے والے کوچنگ سینٹر اور کم از کم ایک اینٹیں بنانے والی کمپنی بھی یہی مخفف استعمال کرتی ہے۔