بدعنوانی کے مقدمے میں خالدہ ضیا کی ضمانت منظور

خالدہ ضیا کہتی ہیں کہ ان پر بدعنوانی کے الزامات سیاسی بنیادوں پر لگائے گئے ہیں
،تصویر کا کیپشنخالدہ ضیا کہتی ہیں کہ ان پر بدعنوانی کے الزامات سیاسی بنیادوں پر لگائے گئے ہیں

بنگلہ دیش میں انسداد بدعنوانی کی عدالت نے ایک مقدمے میں سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

یاد رہے کہ 25 فروری کو خالدہ ضیا جو کہ خزب اختلاف کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ ہیں کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے۔

خالدہ ضیا پر اپنے دورِ اقتدار میں خیراتی رقوم میں سے ہزاروں ڈالر کی خوردبرد کے الزامات ہیں تاہم ان کا موقف ہے کہ یہ سیاسی نوعیت کے الزامات ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ تین ماہ میں پہلا موقع ہے جب خالدہ ضیا ڈھاکہ میں موجود اپنے دفتر سے باہر نکلیں اور عدالت کا رخ کیا جہاں انھیں ضمانت دی گئی۔

بظاہر ان کی ضمانت کی وجہ حکومت اور ان کے درمیان موجود کشیدگی کو کم کرنا دکھائی دے رہی ہے۔

فروری میں عدالت میں حاضر نہ ہونے پر خالدہ ضیا کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔

خالدہ ضیا کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کی رہنما کو جنوری 2015 سے زبردستی ان کے دفتر تک محدود کیا گیا ہے کیونکہ انھوں نے گذشتہ سال کے متنازع انتخابات کے خلاف مظاہرے کرنے کی دھمکی دی تھی۔

تاہم دوسری جانب حکومتی جماعت اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ خالدہ ضیا نے اپنی مرضی سے خود کو دفتر تک محدود رکھا۔

جنوری میں خالدہ ضیا نے اپنے کارکنوں کو ملک گیر ہڑتال کرنے کو کہا تھا تاکہ شیخ حسینہ دوبارہ انتخابات کروانے پر مجبور ہو جائیں۔ ان کے اس اعلان کے بعد سے بنگلہ دیش میں سیاسی تشدد میں کم از کم 100 افراد مارے جا چکے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال کے انتخابات کے بعد سے اب تک حزبِ اختلاف کے درجنوں کارکن لاپتہ ہو چکے ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سیاسی کارکنوں کی گمشدگی میں حکومت ملوث ہے۔