خالدہ ضیا پر بدعنوانی کے الزام کے تحت مقدمہ

خالدہ ضیا اور ان کے مبینہ شریکِ جرم افراد کا کہنا ہے کہ یہ الزامات سیاسی مخالفت کا نتیجہ ہیں
،تصویر کا کیپشنخالدہ ضیا اور ان کے مبینہ شریکِ جرم افراد کا کہنا ہے کہ یہ الزامات سیاسی مخالفت کا نتیجہ ہیں

بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا سمیت حزبِ مخالف کے کئی دیگر رہنماؤں کے خلاف آئندہ ماہ بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

خالدہ ضیا اور ان کے ساتھی فلاحی فنڈز میں لاکھوں ڈالر کی خرد برد سے انکار کرتے ہیں۔

ڈھاکہ کی عدالت نے خالدہ ضیا کی جانب سے مزید وقت کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے سماعت کے آغاز کے لیے 21 اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے۔

خالدہ ضیا کی جماعت بی این پی کی جانب سے جنوری میں عام انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے بعد یہ مقدمہ ایک نئی کشیدگی کا باعث بنے گا۔

شیخ حسینہ واجد کی سربراہی میں برسرِ اقتدار عوامی لیگ نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ خالدہ ضیا نے اس جیت کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ایک غیرجانبدار حکومت کے تحت انتخابات کروائے جائیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی استغاثہ کا کہنا ہے کہ خالدہ ضیا اور ان کے ساتھیوں نےسابق صدر اور ان کے مرحوم شوہر ضیا الرحمن کے نام پر قائم فلاحی ٹرسٹ سے تین کروڑ دس لاکھ ٹکا سے زائد کی رقم حاصل کی۔

خالدہ ضیا اور ان کے بیٹے طارق الرحمن سمیت چار افراد پر ضیا الرحمن کے نام پر قائم ایک یتیم خانے کو دیے گئے دو کروڑ پندرہ لاکھ ٹکا کی رقم خرد برد کرنے کا الزام ہے۔

خالدہ ضیا اور ان کے مبینہ شریکِ جرم افراد کا کہنا ہے کہ یہ الزامات سیاسی مخالفت کا نتیجہ ہیں۔

شیخ حسینہ واجد اور خالدہ ضیا بدترین سیاسی مخالف ہیں اور گذشتہ دو دہائیوں میں ان کی جماعتیں کبھی اقتدار اور کبھی حزبِ اختلاف میں رہی ہیں۔