یہودی قبروں کے مسلمان کاتب

اترپردیش کے جونپور سے آنے والے یاسین محمد گذشتہ چالیس سال یہودیوں کے سنگ مزار پر کتبے لکھ رہے ہیں
،تصویر کا کیپشناترپردیش کے جونپور سے آنے والے یاسین محمد گذشتہ چالیس سال یہودیوں کے سنگ مزار پر کتبے لکھ رہے ہیں
    • مصنف, سوشانت ایس موہن
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

سمندر کے کنارے آباد ہونے کے سبب ممبئی میں جتنے غیر ملکی آباد ہوئے اتنے شاید پورے ہندوستان میں کہیں اور نہیں آئے ہوں گے۔

پارسی، پرتگالی اور جرمن باشندوں کے ساتھ ساتھ ممبئی میں اسرائیل اور دیگر یورپی ممالک سے آنے ولے یہودی بھی آباد ہوئے۔

تاہم زندگی بھر اسرائیل میں آخری سانس لینے کا خواب دیکھنے والے ممبئی کی یہودی برادری کے بہت سے لوگ کبھی واپس اپنے وطن نہیں لوٹ پاتے اور یہیں آخری سانس لیتے ہیں۔

یہودی عقیدے کے مطابق جب انھیں یہیں دفن کیا جاتا ہے تو ان کی قبر پر عبرانی زبان میں روایتی طور پر قبر کا کتبہ لکھا جاتا ہے۔

حیرت انگیز طور پر عبرانی میں قبر کےکتبے لکھنے کا کام اُترپردیش کے شہر جونپور کے مسلمان رہائشی یاسین محمد کرتے ہیں۔

یاسین جب ممبئی پہنچے تو انھیں سنگ تراشی کا ہنر آتا تھا اور وہ پتھر کے مجسمے تراشا کرتے تھے
،تصویر کا کیپشنیاسین جب ممبئی پہنچے تو انھیں سنگ تراشی کا ہنر آتا تھا اور وہ پتھر کے مجسمے تراشا کرتے تھے

ممبئی کے ورلي علاقے میں موجود یہودی قبرستان میں کام کرنے والے یاسین بتاتے ہیں:

’میں یہاں گذشتہ 40 سال سے ہوں اور پارسیوں اور یہودیوں کی قبروں پر عبارت لکھتا رہا ہوں۔ مجھے آج تک یہ محسوس نہیں ہوا کہ ان سے ہمارے مذہبی اختلافات ہیں۔ ان لوگوں نے مجھے بہت پیار دیا اور اپنی زبان بھی سکھائی۔‘

اُتر پردیش کے جونپور سے یاسین محمد جب ممبئی آئے تو وہ پتھر کے مجسمے تراشا کرتے تھے۔

سنہ 1965 میں ان کی ملاقات سنگ تراش سولومن سے ہوئی جنھوں نے یاسین کو عبرانی زبان سکھائی اور پھر وہ سنگ تربت پر کتبے لکھنے کا کام کرنے لگے۔

یاسین بتاتے ہیں کہ جب وہ ممبئی آئے تھے تو انھیں صرف اردو اور ہندی کا ہی علم تھا اور پھر وہ ٹوٹی پھوٹی انگریزی سمجھنے، بولنے، لکھنے لگے۔ لیکن جب عبرانی سیکھنے کا موقع ہاتھ آیا تو انھیں زیادہ مشکلات پیش نہیں آئیں۔

بھارت میں یہودیوں تقریبا دو ہزار سال سے زیادہ عرصے سے آباد ہیں
،تصویر کا کیپشنبھارت میں یہودیوں تقریبا دو ہزار سال سے زیادہ عرصے سے آباد ہیں

یاسین کہتے ہیں: ’عبرانی سیکھنے میں مجھے زیادہ وقت نہیں لگا کیونکہ یہ اردو سے بہت مشابہ زبان ہے۔‘

اسلام اور یہودی مذاہب کے درمیان کشیدگی سے قطع نظر یاسین کی بوڑھی آنکھوں میں ایک بار اسرائیل دیکھنے کا خواب ہے۔

یہ خواہش اس قدر ہے کہ اب وہ جونپور بھی نہیں لوٹنا چاہتے۔

یاسین کہتے ہیں: ’اسرائیل جانے کی خواہش تو ہے، ایک بار موقع بھی ملا تھا لیکن نہیں جا پایا۔ اب جونپور جاکر کیا کریں گے وہاں کیا رکھا ہے؟‘

ممبئی کی یہودی برادری کے بعض لوگوں نے بتایا کہ بھارت میں ان کی تاریخ 2000 سال پرانی ہے۔ پہلے ان کی تعداد کچھ زیادہ تھی لیکن اب ملک بھر میں صرف5000 ہزار یہودی ہی بچے ہیں۔ ان میں سے بہت سے اسرائیل لوٹنے کی خواہش تو رکھتے ہیں تاہم یہاں بھی وہ پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔

یاسین محمد نے اپنے بیٹے کو سنگ تراشی اور کتبہ نویسی کا ہنر سکھایا ہے
،تصویر کا کیپشنیاسین محمد نے اپنے بیٹے کو سنگ تراشی اور کتبہ نویسی کا ہنر سکھایا ہے

یہودی ثقافت کے استاد شیرون میر نے بتایا: ’ہم یہاں خوش ہیں اور بہتر زندگی جی رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم آخری سانس اسرائیل میں لیں، کیونکہ یہ ہمارے عقیدے کا حصہ ہے لیکن ہر انسان تو وہاں نہیں جا سکتا۔‘

ایک مسلمان کے ہاتھوں قبروں پر عبارت لکھے جانے کے بارے میں شیرون بہت دوٹوک جواب دیتے ہیں: ’مجھے گاڈ کا بھی مذہب معلوم نہیں ہے پر اس کو بھی تو میں مانتا ہوں۔‘

یاسین نے اپنی تقریبا ساری زندگی اسی کام میں گزار دی اور اب وہ اپنی آنے والی نسل کو بھی اس کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ ان کا بیٹا مستقبل میں ان کی جگہ لے گا، کیونکہ اب انھیں چلنے پھرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔