انھیں اپنے مطلب سے یاد آتے رہے بھگت سنگھ

- مصنف, ایم راجیو لوچن
- عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے
23 مارچ سنہ 1985 کو بھارت کے نومنتخب وزیر اعظم اور کانگریس رہنما راجیو گاندھی، سرحدی قصبے حسین والا پہنچے۔ وہاں انھوں نے بھگت سنگھ، راج گرو اور سكھدیو کی یاد میں ایک قومی یادگار کی بنیاد رکھی۔
ان تینوں نے انگریزی حکومت کے خلاف ہندوستان کی آزادی کے لیے مسلح تحریک شروع کی تھا اور برطانوی حکومت نے 23 مارچ، 1931 کو لاہور میں انھیں پھانسی دے دی تھی۔
اس وقت کی حکومت نے ملک بھر کے اخبارات میں بھگت سنگھ کے نام پر اشتہار دیے۔ ان اشتہاروں میں بھگت سنگھ کو ایک سکھ نوجوان کے طور پر دکھایا گیا۔ باقاعدہ پگڑی پہنے ہوئے۔ بھگت سنگھ کا یہ انداز تھوڑا چونکا دینے والا تھا۔
اس سے پہلے تک ملک میں بھگت سنگھ کی جو تصویر مقبول تھی، اس میں وہ ایک انگریز ہیٹ پہنے ہوئے تھے، نہ کہ پگڑی۔ سنہ 1928 میں بھگت سنگھ نے یہ سٹوڈیو پوٹریٹ خود ہی كھچوايا تھا۔
عموماً سمجھا جاتا ہے کہ بھگت سنگھ اپنے آپ کو کافر قرار دے چکے تھے، لیکن کانگریس حکومت گویا انہیں پگڑی پہنا کر، اُنھیں سکھ کے طور پر اجاگر کرنا چاہ رہی تھی۔
ملک کے دیگر شہروں میں بھی انھی دنوں حکومت کے زیراہتمام بھگت سنگھ کے حوالے سے کئی پروگرام منعقد ہوئے۔ ممبئی میں بھگت سنگھ کے ساتھی شیو ورما نے ایک پروگرام میں بتایا تھا کہ بھگت سنگھ جیل میں سوویت نظریے کے حامی ہو چکے تھے۔

،تصویر کا ذریعہSHIRAZ HASAN
اس پروگرام کے دوران ورما نے کہا کہ انگریزوں نے بھگت سنگھ سے متعلق کاغذات چھپا دیے تھے تاکہ لوگوں کو یہ پتہ نہ چل سکے کہ بھگت سنگھ سوویت یونین سے کتنا متاثر تھے۔
شیو ورما جو عموماً لکھنؤ میں رہتے تھے، وہ سرکاری خرچ پر ممبئی لائے گئے تھے۔ 81 سال کی عمر میں ان کے ذمے ہم وطنوں کو بھگت سنگھ کے نام پر یہ بتانا تھا کہ مذہب کی عمومی زندگی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابھی حال ہی میں ورما نے بھگت سنگھ کے مضمون کو دوبارہ شائع کیا تھا۔ ’میں لادین کیوں ہوں‘ کے عنوان سے 23 سال کی عمر میں بھگت سنگھ نے اپنے سینیئر ساتھی رندھیر سنگھ کو یہ سمھجانے کی کوشش کی تھی کہ ملک اور سماج کو آگے بڑھانے کے لیے مذہب کا راستہ ترک کرنا اور سائنس کا راستہ اپنانا پڑے گا۔
اچانک اس طرح بھگت سنگھ کے نام پر حکومت کی طرف سے بحث شروع کرنے کے پیچھے بھی ایک واقعہ تھا۔ کئی برسوں سے پنجاب میں شدت پسند سرگرم تھے اور سکھ مذہب کے نام پر نئی ریاست بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
’سکھ کسی سے ڈرتا نہیں اور اپنا حق بندوق کے دم پر لینا جانتا ہے‘، اس خیال کو لے کر ہرمندر صاحب (گولڈن ٹیمپل) میں شدت پسندوں نے اپنا اڈہ قائم کر لیا تھا۔ وہاں سے لاقانونیت پھیلانے کا کام چل رہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
آخر میں حکومت کو فوج کی مدد سے اس اڈے کو ختم کرنا پڑا۔ پورے پنجاب میں حکومت کے خلاف کافی انتشار پھیلا۔ نومبر 1984 میں وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ہی دو سکھ گارڈز نے انھیں قتل کردیا۔ ایسے حالات میں حکومت کو ’پنجاب کے عظیم سعادت مند‘ بھگت سنگھ کی یاد آئی۔
اس واقعہ کے تقریباً 54 سال پہلے انگریزوں نے بھگت سنگھ کو پھانسی کے پھندے پر چڑھا دیا تھا۔ اس وقت ملک میں شاید مہاتما گاندھی ہی ایک اکیلے شخص رہے ہوں گے جنھوں نے بندوق کے ذریعے انقلاب لانے کے حامی بھگت سنگھ کی تعریف نہیں کی لیکن سارا ملک بھگت سنگھ پر فدا تھا۔
آنے والے برسوں میں بھگت سنگھ کی یاد تب تازہ ہوئی جب 1965 میں دین دیال شرما کی لکھی ہوئی فلم ’شہید‘ میں منوج کمار نے بھگت سنگھ کا کردار ادا کیا۔ فلم ’شہید‘ کے ترانے لوگوں کو حب الوطنی کی یاد دلاتے رہتے، تاہم حکومت کو تو بھگت سنگھ تبھی یاد آئے جب حکومت کو ضرورت پڑی۔ دیگر سیاسی جماعتوں کا بھی یہی حال رہا۔
1997 میں آزادی کے 50 ویں سال کے موقع پر بھارتی کمیونسٹوں کو یاد آیا کہ کانگریس حکومت عام طور پر آزادی میں انقلابیوں کی شراکت کو نظر انداز کر دیتی تھی۔ تب انھوں نے بھگت سنگھ کا نام لیا۔

،تصویر کا ذریعہPMO INDIA
دس سال بعد، دائیں بازو کی جماعت بی جے پی نے بھگت سنگھ کو گلے لگا لیا۔ سکھ برادری کے نام پر کھڑے اکالی دل نے بھی بھگت سنگھ کو اپنا بتانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ انقلابیوں کے نام پر روٹی پکانے کا کام بدستور چلتا رہا ہے۔
ادھر وزیر اعظم نریندر مودی نے پنجاب کے ضلع فروزپور میں حسین والا پہنچ کر بھگت سنگھ، سكھدیو اور راجگرو کو یاد کیا۔ نریندر مودی نے حسین والا میں اپنی تقریر میں کہا ’میں بہادروں کی عظیم روایت کو سجدہ کرنے آیا ہوں۔‘
دوسری جانب سماجی کارکن انا ہزارے ضلع شہید بھگت سنگھ نگر میں بھگت سنگھ کے آبائی گاؤں كھٹكر کلاں پہنچ کر رو پڑے۔
بھگت سنگھ کے گاؤں میں انا ہزارے نے کہا، ’آج پورا ملک بھگت سنگھ، راج گرو اور سكھدیو جیسے لاکھوں لوگوں کو یاد کر رہا ہے جنھوں نے ملک کی آزادی کے لیے قربانیاں دیں، لیکن کچھ غدار ملک کے لئے قربانی دینے والے ان لوگوں کو بھول گئے ہیں‘
انا ہزارے اتوار کی شام کو ہی جالندھر پہنچ گئے تھے اور پیر کی صبح وہ اپنے حامیوں کے ساتھ پیدل مارچ کرکے بھگت سنگھ کے گاؤں پہنچے۔
اس دوران انا ہزارے نے پنجاب میں بڑھتی ہوئی منشیات کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے انھوں نے منشیات کے خلاف مہم چلانے کا وعدہ کیا۔







