کشمیر: تصادم میں بھارتی کرنل سمیت چار ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں حکومت سازی کا عمل تقریباً ایک ماہ سے معطل ہے، لیکن اس دوران مسلح شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشنوں میں شدت آگئی ہے تازہ آپریشن منگل کو جنوبی کشمیر کے ترال قصبہ میں کیا گیا جس میں بھارتی فوج کا ایک کرنل ہلاک اور کشمیر پولیس کا ایک اہلکار زحمی ہوگیا۔
کشمیر میں حکام کے مطابق ایک رہائشی مکان میں چھاپے مسلح شدت پسندوں نے جوابی حملہ کیا جس میں کرنل ایم این رائے اور جموں کشمیر پولیس کا ایک اہلکار سنجیو سنگھ زخمی ہوگئے۔ انہیں سرینگر میں واقع فوج کے بیس ہسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں ان کی موت ہوگئی۔
پولیس ترجمان منوج پنڈتا نے بتایا کہ بیس منٹ تک جاری رہنے والے تصادم میں حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر عابد احمد خان اور ان کے ساتھی شیراز ڈار کو ہلاک کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق پولیس اور فوج کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ عابد اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لیے ترال آیا ہے، جس کے بعد ہنڈورہ گاؤں میں واقع ایک رہائشی مکان کا محاصرہ کیا گیا۔
مارے جانے والے شدت پسندوں کی تحویل سے ہتھیار اور گولہ بارود کی برآمدگی کا بھی دعوی کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سال 2012 میں عابد نے حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور بعد میں انہیں پلوامہ ضلع کا کمانڈر تعینات کیا گیا ہے۔
گذشتہ ہفتے جنوبی ضلع شوپیان کے جنگلات میں ایک طویل مسلح تصادم میں پولیس اور فوج نے مشترکہ آپریشن میں جیش محمدی سے وابستہ ایک پاکستانی کمانڈر طیب عبداللہ سمیت پانچ شدت پسندوں کو ہلاک کیا، جن میں پکھر پورہ کے شکیل احمد وانی بھی شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
شکیل دراصل اعلی تعلیم یافتہ تھے، کئی سال تک صحافت کے ساتھ وابستہ رہے اور بعد میں حکومت کے محکمہ تعلیم میں استاد کی حیثیت سے بھی تعینات رہے۔
اس سے پہلے بھی پلومہ ضلع کے کئی اعلی تعلیم یافتہ نوجوان مسلح گروپوں میں شامل ہوگئے، تاہم انہِیں مختلف جھڑپوں میں ہلاک کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل سوپور قصبہ میں بھی تین شدت پسندوں کو جھڑپ کے دوران ہلاک کرنے کا دعوی کیا گیا۔ پولیس کے مطابق اس سال یکم جنوری سے اب تک مختلف آپریشنوں میں 10 شدت پسند مارے گئے۔
منگل کو ترال میں ہونے والے آُپریشن کے دوران پہلی مرتبہ بھارتی فورسز کو جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
غور طلب ہے کہ جموں میں تعینات بھارتی فوج کی سولہویں کور کے کمانڈر لیفٹینٹ جنرل کے ایچ سنگھ نے کہا ہے کہ ایسی خفیہ اطلاعت ملی ہے کہ لائن آف کنٹرول اور عالمی سرحد کے اُس پار کم سے کم 36 لانچ پیڈس پر دو سو مسلح شدت پسند بھارتی علاقوں میں دراندازی کے لیے تیار ہیں۔ جنرل سنگھ کا کہنا تھا کہ 26 جنوری کو بھارتی یوم جمہوریہ کے موقعے پر کشمیر میں حملوں کے خدشات ہیں۔
واضح رہے بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقعہ پر امریکی صدر براک اوباما کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا تھا، تاہم اس روز کشمیر میں مجموعی طور حالات پرامن رہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ہونے والے فوجی آپریشنوں کو مسلح شدت پسندی میں اضافہ سے تعبیر کرنا غلط ہے، کیونکہ یہ ہلاکتیں فوج کی طرف سے خفیہ اطلاعات کی بنا پر کی گئی کاروائیوں میں ہورہی ہیں۔







