افغانستان کانفرنس: مالی امداد جاری رکھنے پر اصرار کیا جائے گا

،تصویر کا ذریعہ
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں آج یعنی جمعرات کو افغانستان سے بین الاقوامی فوجوں کے انخلا کے بعد کی صورتحال پر افغانستان کانفرنس منعقد ہو گی جس میں 50 ممالک سے زیادہ شریک ہوں گے۔
افغانستان میں کام کرنے والی امدادی تنظیموں نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ افغانستان میں طویل مدتی مالی امداد کی یقین دہانی کرائیں ورنہ ملک دوبارہ ملک میں دوبارہ انتشار پھیل جائے گا۔
لندن کانفرنس سے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف بھی خطاب کریں گے۔
افغان صدر اشرف غنی نے ملک میں امن لانے کا اعادہ کیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ صدر اشرف غنی اس کانفرنس میں ’تبدیلی کی دہائی‘ کے منصوبے کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
وہ اس بات کی بھی یقین دہانی چاہیں گے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے ساتھ ہی مالی امداد بھی بند نہ کر دی جائے۔
بی بی سی کے نامہ نگار جیمز روبنز کے مطابق لندن کانفرنس کے شرکا صدر اشرف غنی پر ملک میں بدعنوانی کے خاتمے، سکیورٹی فورسز کی صلاحیت بڑھانے اور قانون کی بالادستی پر زور دیں گے۔
اس کانفرنس سے قبل ایک سروے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں کام کرنے والی تین چوتھائی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال مالی امداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔
دوسری جانب حال ہی میں افغانستان میں طالبان کی جانب سے کیے جانے والے حملوں میں تیزی آئی ہے۔ عالمی برادری کو سکیورٹی صورتِ حال ہر قابو پانے کے لیے افغان سکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں پر تشویش ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے کابل میں نامہ نگار مائیک وولرج کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی کو معلوم ہے کہ ان کو کابل اور عالمی برادری کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے محنت کرنی ہو گی۔
کابل میں کہا جا رہا ہے کہ اشرف غنی نے آغاز تو اچھا کیا ہے لیکن ابھی تک انھوں نے اور عبداللہ عبداللہ نے کابینہ پر اتفاق نہیں کیا ہے۔







