افغان صدر کے ’بدلے بدلے تیور‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے سارک کانفرنس کے دوران سخت زبان استعمال کرتے ہوئے لیکن نام لیے بغیر پاکستان کو خبردار کیا کہ غیر ریاستی عناصر کی پشت پناہی کرنے سے گریز کیا جائے۔
افعان صدر کا یہ بیان ان کے تقریباً دو ہفتے قبل پاکستان کے دور روزہ دورے کے دوران تعلقات میں گرمجوشی اور ایک نئے دور کے آغاز کے اشاروں کے برعکس ہے۔
اس دورے کے دوران راولپنڈی میں فوج کے ہیڈ کوارٹر میں انھیں غیر معمولی پروٹوکول بھی دیا گیا تھا اور اس کے جواب میں انھوں نے سکیورٹی اور دفاعی تعلقات کو فروغ دینے اور سرحدی انتظام میں تعاون کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
افغان صدر کے یہ بیانات پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے لیے کافی حوصلہ افزا تھے کیونکہ پاکستانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ افغانستان میں بھارت کی موجودگی اور افغان سکیورٹی اداروں کے ساتھ اس کے بہتر ہوتے تعاون کو ہمیشہ شک کی نطر سے دیکھتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہISPR
لیکن چند دنوں کے اندر اندر ایسا کیا ہوا کہ افغان صدر اشرف غنی نے تقریباً وہی زبان استعمال کی جو اس سے پہلے سابق افغان صدر حامد کرزئی استعمال کرتے تھے۔
اس معاملے کو اگر درج ذیل خبروں کے تناظر میں دیکھا جائے، تو ممکن ہے ہمیں یہ کہانی بہتر سمجھ آئے۔
31 اکتوبر کو افغانستان کے صدر نے عہدہ سنھالنے کے بعد چین کو اپنے پہلے دورے کے لیے منتخب کیا جہاں ان سے چینی وزیراعظم نے ملاقات پر کہا کہ افغانستان اپنے مسائل خود حل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے اور اس کے ہمسایوں کو اس کےاندرونی معاملات میں مداخلت کیے بغیر پرامن ماحول پیدا کرنا چاہیے۔
اس کے بعد رواں ماہ کی چھ تاریخ کو پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغانستان کا ایک روزہ دورہ کیا اور وہاں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات میں افغان سکیورٹی فورس کو پاکستان میں تربیت دینے کی پیشکش کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
چھ نومبر کو وزیراعظم نواز شریف کے چین کے دورے کے دوران اربوں ڈالر کے مختلف منصوبوں اور یادداشتوں پر دستخط ہوئے اور ساتھ ہی چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے چین کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان شدت پسند تنظیم ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔
اس کے بعد 14 اور 15 نومبر کو افغان صدر نے چین کے بعد پاکستان کو اپنے دورے کے لیے منتخب کیا اور یہاں انھوں نے فوج کے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے دوران جہاں دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور دفاعی تعلقات کو فروغ دینے کی بات کی وہیں وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ماضی کو بھول کر مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے جبکہ وزیرِاعظم نواز شریف نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان دہشت گردی اور شدت پسندی کے مسائل سے مل کر نمٹیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAsimBajwaISPR
صدر اشرف غنی کے دورہ پاکستان کے ایک ہی دن بعد 16 نومبر کو کابل میں اہم خاتون رکنِ پارلیمان پر خودکش حملے میں تین عام شہری ہلاک ہو گئے جبکہ رکنِ پارلیمان کو معمولی چوٹیں آئیں۔
اس واقعے کے ایک دن بعد جنرل راحیل شریف امریکہ کے دورے پر پہنچے جہاں انھوں نے امریکی فوجی اور سول قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
جنرل راحیل نے امریکی فوجی حکام سے ملاقات کے دوران کہا کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی کارروائیوں کی وجہ سے پاکستان کے لیے افغان کے ساتھ سرحدی علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مشکلات درپیش ہیں۔
17 نومبر کو پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان ان شدت پسندوں کو کیوں نشانہ بنائے جو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں ہیں؟

،تصویر کا ذریعہPID
اس بیان کے وقت جنرل راحیل امریکہ میں ہی تھے اور انھوں نے وہاں ایک عشایے سے خطاب کے دوران ان اطلاعات کو مسترد کیا کہ آپریشن کے دوران شدت پسندوں میں کسی قسم کی تفریق کی گئی۔اس کے بعد دفتر خارجہ کی جانب سے مشیر خارجہ کے بیان کی وضاحت بھی جاری کی گئی۔
اسی دوران صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو ایک انٹرویو میں خبردار کیا کہ افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا پاکستان اور بھارت کو افغانستان میں پراکسی وار کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
دوسری جانب جنرل راحیل کی امریکہ میں موجودگی کے دوران ہی 20 نومبر کو روس کے وزیر دفاع سرگئی شوگو نے پاکستان کا ایک روزہ دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدہ طے پایا اور دہشت گردی کےخاتمے اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے، سیاسی و فوجی مسائل پر معلومات کے تبادلے اور بین الاقوامی سلامتی کو بہتر بنانے کے علاوہ کئی فوجی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
روسی وزیر دفاع کے دورے کے موقعے پر ان کی پاکستان کی فوجی قیادت سے ملاقات کے بارے میں کوئی نمایاں خبر سامنے نہیں آئی۔
22 نومبر کو صدر براک اوباما نے افغانستان میں امریکہ کے جنگی مشن کے دائرۂ کار میں اضافے کی منظوری دی اور اس کے اگلے ہی روز 23 نومبر کو افغان پارلیمان نے ملک سے نیٹو اور امریکی فوجوں کے مکمل انخلاء کو ایک سال کے لیے موخر کرنے کے معاہدے کی توثیق کر دی۔
اسی روز پاکستان کے قبائلی علاقے سے متصل افغان صوبے پکتیکا میں ایک والی بال میچ میں خود کش حملے میں 57 افراد ہلاک ہو گئے اور غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق افغان حکام نے اس حملے میں حقانی نیٹ ورک کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا۔

،تصویر کا ذریعہ.
ان تمام واقعات کے دوران افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی بھارت کے دورے پر تھے جہاں انھوں نے افغانستان میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پراکسی وار کی اجازت نہ دینے کی بات کی اور اس کے علاوہ اپنے پرانے الزامات کو دوہرایا کہ پاکستان شدت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے۔
اس کے بعد افغانستان کے صدر اشرف غنی سارک کے اجلاس میں شرکت کے لیے کھٹمنڈو پہنچے اور بدھ کو اجلاس سے خطاب میں انھوں نے پراکسی وار پر خبردار کرتے ہوئے پکتیکا میں خودکش حملے کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ غیر ریاستی عناصر کی پشت پناہی کرنے کے اثرات خطرناک ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب جاری ہے جس میں فوج تقریباً ہر دوسرے روز درجنوں شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ امریکہ نے افغانستان میں اس کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے شدت پسندوں کے خلاف شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور بدھ کو ہونے والے ایک ڈرون حملے میں چار شدت پسند مارے گئے۔







