افغانستان کے لیے ’ری سیٹ‘ بٹن

ڈاکٹر اشرف غنی کا تجربہ اور پس منظر ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر اشرف غنی کا تجربہ اور پس منظر ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

لندن میں منعقدہ افغانستان کانفرنس جنگ سے تباہ حال اس ملک کی امن کی جانب پیش رفت میں ایک اہم موقعے پر منعقد ہو رہی ہے۔

صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی سربراہی میں نئی افغان حکومت اور عالمی برادری کے لیے افغانستان کی اگلی دہائی میں سمت کے تعین کے لیے یہ ایک ’ری سیٹ‘ بٹن دبانے کے موقعے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

میزبان ملک برطانیہ کی سرکاری ویب سائٹ پر بیان میں اس کانفرنس کو ’نئی افغان حکومت کی اصلاحات کے لیے عزم دہرانے کا موقع قرار دیا ہے۔‘

دوسری جانب سے اس اجلاس کو بین الاقوامی برادری کی جانب سے افغانستان میں طویل مدتی امداد مہیا کرنے کے عزم کے اعادے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

لیکن اس کے ناقدین اسے سنہ 2001 کے بعد سے جاری معمول کی کانفرنسوں کے کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔ ایسی کانفرنسیں ہر دو سال میں ایک بار منعقد ہوں گی تاکہ افغان حکومت اور امداد دینے والوں کے درمیان ترقی کی راہ میں حاصل پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔

افغانستان سے تقریباً 150 افراد پر مشتمل وفد اس کانفرنس میں شرکت کر رہا ہے اور اس میں بڑی تعداد افغان سول سوسائٹی کی بتائی جاتی ہے۔

یہ وہی این جی اوز ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں ان کا جنم ہوا۔

امداد دینے والوں پر الزام ہے کہ ان تنظیموں کی صلاحیت کو نظر انداز کرتے ہوئے لاکھوں ملین ڈالر اس امید میں ان کے حوالے کیے گئے کہ وہ ’زبردست ترقی‘ جیسی رپورٹیں تیار کر کے دیں گے۔

کانفرنس کا ایک ایسے وقت اہتمام کیا گیا ہے جب ایساف اور اس میں شامل امریکی فوجی اپنا مشن اس ماہ کے آخر میں ختم کر کے روانہ ہو رہے ہیں۔

اس کے بعد امریکی اور ان کے چند اڈے تو رہیں گے، لیکن سکیورٹی کی تمام تر ذمہ داری افغان سکیورٹی فورسز پر ہوگی اور اس اضافی بوجھ کے لیے بھی اضافی رقم زیر غور ہو گی۔

حکومت مخالف افغان طالبان اس کانفرنس سے چند روز پہلے ہی اپنی کارروائیوں میں شدت لائے ہیں جو اس بات کا صاف اظہار ہے کہ اگرچہ ان کی قوت میں قدرے کمی آ رہی ہے لیکن وہ اب بھی افغان حکومت کے لیے دردِ سر ہیں جو اتنی آسانی سے نہیں جائے گا۔

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی اس کانفرنس میں شرکت خاصی اہمیت کی حامل ہے۔ دونوں ممالک کی سیاسی و فوجی قیادتوں کے درمیان حالیہ رابطے امید کی کرن اور تبدیلی کے اشارے ہیں لیکن اس طرح کے اشارے قیادتوں کی تبدیلی پر ماضی میں بھی دیے گئے جو زیادہ دیرپا ثابت نہیں ہوئے۔

اس کانفرنس میں کسی نئی امداد کا اعلان تو متوقع نہیں لیکن زیادہ توجہ اب تک کی پیش رفت کے جائزے پر ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت 74 لاکھ افغانوں کا انحصار بین الاقوامی امداد پر ہے۔ کئی ادارے اور افراد کی روزی روٹی اسی براہ راست امداد سے وابستہ ہے۔ مقامی معیشت ابھی اتنی توانا نہیں ہوئی کہ لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار کا سبب بن سکے۔ امداد دینے والوں کو اس بارے میں سوچنا ہو گا۔

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی اس کانفرنس میں شرکت کافی اہمیت کی حامل ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی اس کانفرنس میں شرکت کافی اہمیت کی حامل ہے

بدعنوانی دوسرا بڑا مسئلہ ہے جو ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ خود امریکی افغانستان کی تعمیر نو کے خصوصی انسپکٹر جنرل کی جائزہ رپورٹیں براہ راست دی جانے والی امداد کے زیاں اور غلط استعمال سے بھری دلخراش داستانوں سے پر ہیں۔

سابق افغان صدر پر حامد کرزئی کی ایک بڑی ناکامی اس کرپشن کے خاتمے کے لیے مناسب اقدامات اٹھانا رہی ہے۔

اب تمام نظریں نئی افغان قیادت پر ہیں کہ وہ کیسے ان مسائل پر قابو پاتی ہے۔

ڈاکٹر اشرف غنی کا تجربہ اور پس منظر ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا انتخاب بھی اپنے معاشی ایجنڈے کی وجہ سے ہوا تھا لہٰذا ان کا اس ایجنڈے کو عملی شکل دینے کا وقت یہی ہے۔

ان کا آغاز اگرچہ کوئی زیادہ اثر انداز نہیں رہا ہے۔ وہ دو ماہ سے اپنی کابینہ کی تشکیل میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں تو اس سے زیادہ سنگین اور وسیع پیمانے پر مسائل سے کیسے نمٹ سکیں گے۔

یہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے اور یہ ان کا اور ان کے اتحادیوں کا بڑا امتحان ہے۔