علی گڑھ یونیورسٹی مخالفین کے نشانے پر

مخالفین نے علی گڑھ کو اس طرح بنا کر پیش کیا جیسے یہ مسلمانوں کی کی کوئی شبیہ اور علامت ہو

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمخالفین نے علی گڑھ کو اس طرح بنا کر پیش کیا جیسے یہ مسلمانوں کی کی کوئی شبیہ اور علامت ہو
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

دلی سے تقریباً سوا سو کلو میٹر کی دوری پر مغربی اتر پردیش میں واقع علی گڑہ مسلم یونیورسٹی کا تعیلم اور برصغیر کی سیاست میں بہت اہم کردار رہا ہے۔ آزادی سے پہلے یہ جدید فکر اور ترقی پسند خیالات کا مرکز تو تھی ہی اس وقت آزادی کی تحریک میں بھی اس نے اہم کراد ادا کیا ۔ آزادی کے بعد یہ بھارت کی اولین یونیورسٹیوں میں رہی۔ اس یونیوورسٹی نے زندگی کے ہر شعبے میں نامور شخصیات پیدا کیں ۔

علی گڑہ مسلم یونیورسٹی آج بھارت کی ایک بڑی اور جدید یونیورسٹی ہے ۔اس کے سارے اخراجات مرکزی حکومت برداشت کرتی ہے ۔اس یونیورسٹی کو حکومت نے ایک اقلیتی تعلیمی ادارہ تسلیم کیا ہے اس لیے مسلمانوں کو ہر شعبے میں یہاں رزرویشن اور ترجیح دی جاتی ہے ۔ یہ بھارت کی سب سے رعایت یافتہ یونیورسٹیوں میں شمار کی جاتی ہے ۔ پورے ملک بالخصوص اتر پردیش اور بہار کے ہزاروں طلبہ یہاں زیر تعلیم ہیں ۔

دو عشرے قبل تک یونیورسٹی کا تعلیمی معیار بہت اونچا ہوا کرتا تھا ۔ یہاں اعلیٰ درجے کے پروفیسراور لکچرر تعلیم دیا کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس یونیورسٹی کا تعلیمی معیار اقربا پروری، کرپشن اور سیاست کی نذر ہو گیا ۔ یونیورسٹی میں اگرچہ پروفیشنل کورسز مثلاً انجینیئرنگ اور میڈیکل جیسے شعبے میں تو کچھ ترقی ہوئی ہے لیکن بیشتر غیر پیشہ ورانہ کورسز زوال پذیر ہیں ۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی برسوں سے سیاست کا محور رہی ہے ۔ کانگریس ، اور کئی علاقا‏ئی جماعتوں نے علی گڑھ یونیورسٹی کو اس طرح بنا کر پیش کیا جیسے یہ مسلمانوں کی کی کوئی شبیہ اور علامت ہو اور یہ کہ یہ مسلمانوں کا ایک بہت حساس ادارہ ہے ۔ دوسری جانب بی جے بی اور آر ایس ایس جیسی تنظیمیں اور جماعتیں فطری طور پر علی گڑھ یونورسٹی کو مسلمانوں کی سیاست و مسلم فرقہ پرستی کامرکز اور پاکستان نواز لابی کے طور پر دیکھتی رہیں ۔

مرکزی حکومت بھی اس یونیورسٹی کو کس نطر سے دیکھتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے اس یونیورسٹی کہ وائس چانسلر مشکل سے ہی کبھی درس و تدریس کے بیگ گراؤنڈ کے ہوتے ہیں۔ وہاں اکثر ریٹائرڈ سویلین افسر ، پولیس افسر اور ریٹائرڈ فوجی وائس چانسلر مقر کیے جاتے ہیں۔

اس وقت بھی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایک سبکدوش جنرل ہیں۔ پجھلے برسوں میں ان وائس چانسلروں کی ساری توجہ یونیورسٹی کو خوش اسلوبی سے چلانے پر مرکوز رہی ہے ۔ اس کا معیار بہتر کرنے اور اسے دوسری یونیورسٹیوں کے مقابل کھڑا کرنے کے بارے میں اگر کوئی کوشش ہوئی بھی ہو گی تو کم از کم اس کا کوئی خاص اثر نظر نہیں آتا۔اپنی ان کمزوریوں کے باوجود یہ یونیورسٹی ہزاروں مسلمانوں کی تعلیم کا ذریعہ بنی ہو ئی ہے اور ہر برس یہاں سے سینکڑوں طالبعلم کامیاب ہو کر زندگی کے ہر شعبے میں اپنا مقام حاصل کر رہے ہیں۔

ان دنوں علی گڑہ ایک بار پھر مخالفین کے نشانے پر ہے ۔ اتر پردیش کی بی جے پی شاخ نے یہ اعلان کیا کہ وہ اس خطے کےایک جاٹ، راجہ مہندر پرتاپ کی سالگرہ یونیورسٹی کیمپس میں منائے گی۔ بی جے اور آر ایس ایس کے مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی ساری زمین مہندر پرتاپ نے عطیے میں دی تھی۔ جبکہ یونیورسٹی کے ریکارڈ کے مطابق انہوں نے تین ایکڑ زمین یونیورسٹی کولیز پر دی تھی۔ سر سید نے 67 ایکڑ زمین اس وقت انگریزوں سے خریدی تھی۔ ہزاروں دوسرے لوگوں نے بڑے بڑے عطیات دیے تھے ۔

راجہ مہندر پرتاپ نہ صرف مسلم یونیورسٹی کے بہت بڑے ہمدرد تھے بلکہ انہوں نے یہیں سے تعلیم بھی حاصل کی۔ وہ ایک انتہائی سیکیولر اور نیک انسان تھے اور آزادی کے بعد کافی عرصے تک سیاست میں بھی سرگرم رہے ۔

بی جے پی اور آر ایس ایس کو راجہ مہندر پرتاپ کی یاد ان کی 126ویں سالگرہ پر اس لیے آئی کہ ابھی پچھلے برس مظفر نگر اور سہارہپور میں جاٹوں اور مسلمانوں کے درمیان فسادات ہوئے تھے۔ وہ خود کو جاٹوں کے مفاد کے علمبردار کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ جاٹوں کو بھی بدلتے ہوئے سیاسی پس منظر میں نئے ہیروز کی تلاش ہے ۔ بی جے پی اپنے مقصد کے حصول کے لیے اسے مذہبی رنگ دے دیتی ہے ۔ وہ اسے اس طرح پیش کرتی ہے کہ کوئی اس کی مخالفت کا خطرہ بھی نہیں لے سکتا۔ بی جے پی کی نظر ریاست کے انتحابا ت پر ہے ۔

بی جے پی اور اس اس کی محاذی تنطمییں ان دنون تعلیم اور کلچر وثقافت کے شعبے میں پوری شدت کے ساتھ سر گرم ہیں ۔ علی گڑھ یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونورسٹی جیسے ادارے ان تنظیموں کے نشانے پر ہیں ۔ آنے والے دنوں میں اگر یہاں کوئی نیا تنازع سامنے آ ئے تو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔