ست لوک آشرم میں تصادم، چھ ہلاکتوں کی تصدیق

،تصویر کا ذریعہPTI
بھارت کی ریاست ہریانہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ ہندو گرو رام پال کے آشرم میں منگل کو ہونے والی جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
مرنے والوں میں پانچ خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔
منگل کو پولیس نے رام پال کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو دارالحکومت دہلی سے شمال مشرق میں 170 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ست لوک آشرم کے قریب پولیس اور گرو کے حامیوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں تقریباً 200 افراد زخمی بھی ہو گئے۔
ریاست کے پولیس ڈائریکٹر جنرل ایس این وشیشٹھ نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ آشرم کی انتظامیہ نے حکام کو چار خواتین کی لاشیں دی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق دہلی، روہتک، سنگرور اور بجنور سے ہے۔
ڈی جی پی نے کہا کہ اس کے علاوہ بدھ کی صبح ہی اتر پردیش کے علاقے للت پور کی ایک رہائشی 20 سالہ رجنی کو تشویش ناک حالت میں آشرم سے ہسپتال لایا گیا تھا، جہاں ان کی بھی موت ہو گئی۔
انھوں نے بتایا کہ ایک ڈیڑھ سالہ بچے کو بھی مردہ حالت میں آشرم سے باہر لایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
پولیس افسر نے ان اموات کی وجہ پولیس کارروائی ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا: ’لاشوں پر کسی طرح کے چوٹ کے نشان نہیں۔ پولیس نے کوئی گولی نہیں چلائی اور نہ ہی پولیس آشرم میں داخل ہوئی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ تمام لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد ہی ان کی موت کی اصل وجہ کا پتہ چل سکے گا۔
ایس این وشیشٹھ نے بتایا کہ منگل کو شروع ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد سے اب تک آشرم سے دس ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ آشرم میں اب بھی تقریباً پانچ ہزار لوگ موجود ہیں اور پولیس انھیں نکالنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے۔
ڈی جی پی نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے 12 ایکڑ میں پھیلے ستلوك آشرم کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے اور اب تک کی معلومات کے مطابق رام پال آشرم میں ہی موجود ہیں۔
انھوں نے کہا کہ رام پال اور آشرم کے خلاف قتل کی کوشش، مجرمانہ سازش اور غداری کی دفعات کے تحت دو نئے مقدمے بھی درج کیے گئے ہیں۔
پولیس اہلکار نے کہا کہ رام پال کی گرفتاری کے لیے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی گئی اور ’ہمارے دو مقاصد معصوم لوگوں کو آشرم سے بحفاظت نکالنا اور رام پال کی گرفتاری ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہPTI
رام پال نامی خود ساختہ گرو عدالت میں سنہ 2006 میں ہونے والے ایک قتل اور عدالت کی توہین کے معاملات میں مطلوب ہیں۔ ان کے ہزاروں بھگت ان کے آشرم میں ان کی حفاظت پر مامور ہیں۔
رام پال ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور ضمانت پر ہیں تاہم بار بار عدالت میں حاضر نہ ہونے کی وجہ سے وہ توہینِ عدالت کے الزام میں مطلوب ہیں۔
خیال رہے کہ عدالت نے ہریانہ کے ڈی جی پی اور ہوم سیکریٹری کو 17 نومبر تک رام پال کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن سنت رام پال اس دن بھی پیش نہیں ہوئے جس کے بعد عدالت نے 21 نومبر تک پولیس کو انھیں عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
بدھ کے روز بھی ڈیڈ لاک برقرار ہے اور آشرم کے باہر ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکار کھڑے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہhttpwww.jagatgururampalji.org
آشرم کے آس پاس موجود صحافی آتش پٹیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پولیس نے آشرم تک آنے والے راستے کو بند کر دیا ہے جبکہ پڑوس کے علاقے سے 30 بسوں میں پولیس وہاں آئی ہے۔‘
اس کے علاوہ پولیس نے آشرم کی بجلی کاٹ دی ہے اور پانی بند کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ آشرم میں بہت سے لوگوں کو زبردستی روک کر رکھا گیا ہے۔
آشرم سے نکلنے میں کامیاب ہونے والے ایک بھگت منی رام نے بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ آشرم کے منتظمین نے انھیں دو دنوں تک روکے رکھا اور نکلنے نہیں دیا اور یہ کہتے رہے کہ اگر وہ باہر نکلیں گے تو پولیس ان کو مار ڈالے گي۔
آشرم کے ایک ترجمان راج کمار نے اخبار کو بتایا کہ ’لڑائی میں معصوم لوگوں کی جان گئی ہے اور آشرم کے اندر آٹھ لوگوں کی لاشیں ہیں جن میں چار خواتین ہیں۔‘







