گرو کی لاش مریدوں نے فریزر میں رکھ دی

،تصویر کا ذریعہdjjs
بھارت میں ایک گرو کے چیلوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ سادھو کی لاش کو ایک فریزر میں ڈال کر منجمد کریں گے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ وہ دوبارہ زندہ ہو کر ان کی رہنمائی کریں گے۔
اشوتوش مہاراج کو ڈاکٹروں نے 29 جنوری کو مردہ قرار دے دیا تھا۔ اس کے ایک ہفتے بعد پنجاب کے جالندھر شہر میں واقع مذہبی مرکز میں ان کے کمرے میں ہی لاش کو فریزر میں رکھ دیا گیا۔
تاہم ان کے پیروکاروں کو اس بات کا یقین ہے کہ وہ ایک گہرے مراقبے میں ہیں اور اسی لیے انھوں نے ان کے جسم کو منجمد کر دیا ہے۔
یہ سادھو دیویا جیوتی جگراتا سناستھن کے رہنما مانے جاتے ہیں جس کا دعویٰ ہے کہ اس کے 3 کروڑ پیروکار ہیں۔
ان کے ترجمان سوامی وشال آنند نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ مردہ نہیں ہیں کیونکہ طبی سائنس یوگا کی سائنس جیس چیزوں کو سمجھ نہیں سکتی ہے اور ہم انتظار کریں گے اور دیکھیں گے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ واپس لوٹ کر آئیں گے۔‘
وشا آنند نے بی بی سی کو بتایا کہ تاہم مہاراج کو ڈاکٹروں نے طبی طور پر مردہ قرار دے دیا تھا لیکن اصل میں وہ زندہ تھے اور مزار میں یا توجہ کے اعلیٰ حالت میں تھے۔

،تصویر کا ذریعہDIVYA JYOTI JAGRATI SANSTHAN
ترجمان کے مطابق ان کے گرو کی عمر ممکنہ طور پر 70 سال سے زیادہ تھی لیکن کوئی بھی ان کی اصل عمر کے بارے میں نہیں جانتا۔
مالک وشال آنند نے کہا کہ ’گرو جی اکثر کہا کرتے تھے کہ وہ ہمارے ساتھ زیادہ دن تک نہیں رہیں گے اور ان کی غیر موجودگی میں ہی ادارے کو ہمیں سنبھالنا ہوگا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ جب ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا تو پیروکاروں نے لاش کو فريزر میں رکھنے سے پہلے ایک ہفتے تک ان کے جسم کی نگرانی کی۔
انھوں نے بتایا کہ ’فريزر میں ڈالنے سے پہلے لاش خراب نہیں ہوئی تھی۔ یہ ایک روحانی تجربہ تھا۔ ہم نے پہلے لاش پر لیپ لگانے کا سوچا لیکن کسی نے کہا کہ اس سے ان کے دوبارہ زندہ ہونے کا امکان ختم ہو جائیں گے۔‘
فريزر میں لاش کو رکھنے کے فیصلے کو ایک شخص نے عدالت میں چیلنج کیا ہے۔
گرو کے سابق ڈرائیور ہونے کا دعویٰ کرنے والے اس شخص نے الزام لگایا ہے کہ پیروکار گرو کی لاش کو نہیں چھوڑ رہے ہیں کیونکہ وہ جائیداد میں حصہ داری چاہتے ہیں۔
پنجاب کے ایڈيشنل ایڈووکیٹ جنرل ریتا کوہلی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ عدالت نے اس دعوے کو خارج کر دیا کیونکہ پنجاب حکومت نے کہا تھا کہ مہاراج کو ڈاکٹروں نے مردہ قرار دے دیا ہے اور اب یہ پیروکاروں پر منحصر ہے کہ وہ لاش کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDIVYA JYOTI JAGRATI SANSTHAN
مذہبی رہنما کے ایک پیروکار نے اخبار انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ وہ ان سے بات کر سکتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’جب وہ آنکھیں بند کر لیتے ہیں تو ان سے بات کی جا سکتی ہے۔‘
لكھوندر سنگھ نے کہا کہ انھوں نے واپس آنے کا یقین دلایا ہے۔
ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق یہ روحانی تنظیم 1983 میں قائم ہوئی تھی اور اس کا مقصد عالمی امن کا قیام ہے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے 15 ممالک میں اس کی 350 شاخیں ہیں۔
1993 میں کولکتہ کے ایک مذہبی رہنما بچے برہمچاری کے پیروکاروں نے بھی اپنے رہنما کی لاش کی تدفین کیے جانے سے دو ماہ تک انکار کیا اور ان کا کہنا تھا کہ ان کے گرو سماد سے جاگیں گے۔
بلآخر شہر کے مضافات میں واقع مذہبی مقام میں 450 پولیس اہلکاروں کو گھس کر خراب ہوتی ہوئی اس لاش کو تدفین کے لیے لے جانا پڑا۔ اس دوران پولیس کو پیروکاروں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔







