مہاراشٹر، ہریانہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پي آگے

بھارت کی دو اہم ریاستوں مہاراشٹر اور ہریانہ میں گذشتہ بدھ کو اسمبلی انتخابات کے لیے ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی اتوار کی صبح سے جاری ہے اور ابتدائی رجحانات میں مرکز میں برسر اقتدار پارٹی بی جے پی آگے ہے۔
ابتدائی رجحانات کے مطابق ہریانہ میں بی جے پی کو واضح اکثریت ملنے کا امکان ہے جبکہ مہاراشٹر میں وہ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرتی نظر آ رہی ہے۔
ہریانہ میں 90 اسمبلی نشستوں والی اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے بی جے پی کو 46 نشستیں چاہیے اور فی الحال وہ 47 سیٹوں پر آگے ہے۔
دوسری جانب 288 نشستوں والی مہاراشٹر اسمبلی میں چہار رخی مقابلہ ہے۔ کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت کے لیے 145 نشستیں درکار ہوں گی۔ فی الحال کوئی بھی پارٹی اپنے دم پر حکومت سازی کرتی نظر نہیں آ رہی ہے۔
بی جے پی 108 سیٹوں پر آگے ہے تو کانگریس 50، این سی پی 43، شیو سینا 65 سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئے ہے۔
ان ریاستوں میں 15 اکتوبر کو ووٹ ڈالے گئے تھے جہاں کانگریس کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی کے کرشمے کے نتیجے میں اچھی کارکردگی پیش کر رہی ہے۔

بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق 15 اکتوبر کو ہریانہ میں پولنگ کی شرح 73 فیصد جبکہ مہاراشٹر میں 62 فیصد ووٹروں نے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
ہریانہ میں جہاں گذشتہ دس سال سے کانگریس کی حکومت ہے وہیں مہاراشٹر میں وہ این سی پی کے ساتھ مل کر 15 سال سے اقتدار میں ہے تاہم اس بار یہ اتحاد اب ختم ہو چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسمبلی انتخابات کے نتائج کو لے کر اس لیے بھی دلچسپی زیادہ ہے کیونکہ کوئی بھی بڑی پارٹی کسی دوسری پارٹی کے ساتھ مل کر الیکشن نہیں لڑ رہی ہے بلکہ مہاراشٹر میں برسوں پرانے دونوں اہم اتحاد ٹوٹ چکے ہیں۔
90 ارکان والی ہریانہ اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے جہاں 46 نشستیں درکار ہوں گی وہیں 288 ارکان والی مہاراشٹر اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے145 ممبران اسمبلی کی ضرورت ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
گذشتہ بدھ کو ہریانہ میں 76.54 فیصد ووٹروں نے اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا تو مہاراشٹر میں 63.13 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی۔
یہ نتائج اس لیے بھی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت بننے کے تقریبا پانچ ماہ بعد یہ انتخابات ہوئے ہیں۔
مبصرین کے مطابق دونوں ریاستوں کے انتخابات بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے لیے بڑا امتحان ہیں کیونکہ عام انتخابات میں بی جے پی کو تاریخی جیت سے ہم کنار کرنے کے بعد پہلی بار ان نتائج کو ان کی مقبولیت کے پیمانے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
انتخابی جائزوں میں بی جے پی کو فائدہ اور کانگریس کو نقصان کی پیش گوئیاں کی گئی ہیں۔







