مہاراشٹر، ہریانہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پي آگے

90 ارکان والی ہریانہ اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے جہاں 46 نشستیں درکار ہوں گی وہیں 288 ارکان والی مہاراشٹر اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے145 ممبران اسمبلی کی ضرورت ہو گی
،تصویر کا کیپشن90 ارکان والی ہریانہ اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے جہاں 46 نشستیں درکار ہوں گی وہیں 288 ارکان والی مہاراشٹر اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے145 ممبران اسمبلی کی ضرورت ہو گی

بھارت کی دو اہم ریاستوں مہاراشٹر اور ہریانہ میں گذشتہ بدھ کو اسمبلی انتخابات کے لیے ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی اتوار کی صبح سے جاری ہے اور ابتدائی رجحانات میں مرکز میں برسر اقتدار پارٹی بی جے پی آگے ہے۔

ابتدائی رجحانات کے مطابق ہریانہ میں بی جے پی کو واضح اکثریت ملنے کا امکان ہے جبکہ مہاراشٹر میں وہ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرتی نظر آ رہی ہے۔

ہریانہ میں 90 اسمبلی نشستوں والی اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے بی جے پی کو 46 نشستیں چاہیے اور فی الحال وہ 47 سیٹوں پر آگے ہے۔

دوسری جانب 288 نشستوں والی مہاراشٹر اسمبلی میں چہار رخی مقابلہ ہے۔ کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت کے لیے 145 نشستیں درکار ہوں گی۔ فی الحال کوئی بھی پارٹی اپنے دم پر حکومت سازی کرتی نظر نہیں آ رہی ہے۔

بی جے پی 108 سیٹوں پر آگے ہے تو کانگریس 50، این سی پی 43، شیو سینا 65 سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئے ہے۔

ان ریاستوں میں 15 اکتوبر کو ووٹ ڈالے گئے تھے جہاں کانگریس کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی کے کرشمے کے نتیجے میں اچھی کارکردگی پیش کر رہی ہے۔

پارلیمانی انتخابات کے بعد ریاستی اسمبلی انتخابات میں بھی کانگریس پارٹی کو شکست کا سامنا ہے
،تصویر کا کیپشنپارلیمانی انتخابات کے بعد ریاستی اسمبلی انتخابات میں بھی کانگریس پارٹی کو شکست کا سامنا ہے

بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق 15 اکتوبر کو ہریانہ میں پولنگ کی شرح 73 فیصد جبکہ مہاراشٹر میں 62 فیصد ووٹروں نے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

ہریانہ میں جہاں گذشتہ دس سال سے کانگریس کی حکومت ہے وہیں مہاراشٹر میں وہ این سی پی کے ساتھ مل کر 15 سال سے اقتدار میں ہے تاہم اس بار یہ اتحاد اب ختم ہو چکا ہے۔

اسمبلی انتخابات کے نتائج کو لے کر اس لیے بھی دلچسپی زیادہ ہے کیونکہ کوئی بھی بڑی پارٹی کسی دوسری پارٹی کے ساتھ مل کر الیکشن نہیں لڑ رہی ہے بلکہ مہاراشٹر میں برسوں پرانے دونوں اہم اتحاد ٹوٹ چکے ہیں۔

90 ارکان والی ہریانہ اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے جہاں 46 نشستیں درکار ہوں گی وہیں 288 ارکان والی مہاراشٹر اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے145 ممبران اسمبلی کی ضرورت ہو گی۔

نریندر مودی نے مہاراشٹر اور ہریانہ دونوں جگہ انتخابات میں بہت ساری ریلیاں کیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشننریندر مودی نے مہاراشٹر اور ہریانہ دونوں جگہ انتخابات میں بہت ساری ریلیاں کیں

گذشتہ بدھ کو ہریانہ میں 76.54 فیصد ووٹروں نے اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا تو مہاراشٹر میں 63.13 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی۔

یہ نتائج اس لیے بھی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت بننے کے تقریبا پانچ ماہ بعد یہ انتخابات ہوئے ہیں۔

مبصرین کے مطابق دونوں ریاستوں کے انتخابات بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے لیے بڑا امتحان ہیں کیونکہ عام انتخابات میں بی جے پی کو تاریخی جیت سے ہم کنار کرنے کے بعد پہلی بار ان نتائج کو ان کی مقبولیت کے پیمانے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

انتخابی جائزوں میں بی جے پی کو فائدہ اور کانگریس کو نقصان کی پیش گوئیاں کی گئی ہیں۔