مہاراشٹر، ہریانہ میں اسمبلی انتخابات کیلیے ووٹنگ

مہاراشٹر میں کانگریس 287 سیٹوں پر جبکہ بی جے پی 280 سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہے
،تصویر کا کیپشنمہاراشٹر میں کانگریس 287 سیٹوں پر جبکہ بی جے پی 280 سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہے

بھارت کی دو اہم ریاستوں مہاراشٹر اور ہریانہ میں بدھ کو ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

بھارتی الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ہریانہ میں پولنگ کی شرح 73 فیصد رہی ہے جبکہ مہاراشٹر میں 62 فیصد ووٹروں نے حقِ رائے دہی استعمال کیا ہے۔

ووٹنگ بھارت کے معیاری وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوئی اور یہ شام چھ بجے تک جاری رہی۔

دونوں ریاستوں میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی اتوار کو ہوگی اور اسی دن نتائج آ جائیں گے۔

مبصرین کے مطابق دونوں ریاستوں کے انتخابات بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے بڑا امتحان ہیں کیونکہ عام انتخابات میں بی جے پی کو تاریخی جیت سے ہم کنار کرنے کے بعد پہلی بار ان کی عزت داؤ پر ہے۔

مہاراشٹر میں 288 رکنی اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

25 سال بعد کانگریس پہلی بار کسی اتحادی کے ساتھ ریاست میں انتخاب لڑ رہی ہے
،تصویر کا کیپشن25 سال بعد کانگریس پہلی بار کسی اتحادی کے ساتھ ریاست میں انتخاب لڑ رہی ہے

اس ریاست میں کانگریس نے 287 اور بی جے پی نے 280 نشستوں پر انتخاب لڑا ہے جبکہ اہم مقامی پارٹی شیوسینا 282 نشستوں اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی 278 نشستوں پر انتخابات لڑ رہی ہیں۔

راج ٹھاکرے کی قیادت والی مہاراشٹر نونرمان سینا 219 سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہے۔ اس طرح بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ مہاراشٹر میں چوطرفہ معرکہ ہے۔

25 سال بعد یہ پہلا موقع ہے جب بی جے پی اور شیوسینا ایک دوسرے سے علیحدہ ہوکر انتخاب لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔

واضح رہے کہ اس بار 15 سال تک مہاراشٹر میں حکومت کرنے والی کانگریس اور این سی پی اتحاد بھی ختم ہو چکا ہے۔

ریاست ہریانہ میں مقامی رہنما کی پارٹی سے بی جے پی کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے

،تصویر کا ذریعہdaljit Ami

،تصویر کا کیپشنریاست ہریانہ میں مقامی رہنما کی پارٹی سے بی جے پی کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے

مہاراشٹر میں وزیر اعظم نریندرمودی نے 27 ریلیاں کی ہیں اور مبصرین کے مطابق مکمل انتخابات ان کے نام پر ہی لڑا جا رہا ہے۔

دوسری جانب دہلی سے ملحق ریاست ہریانہ میں بھی بی جے پی کو نریندر مودی کے کرشمے کی امید ہے۔

ریاست کے 1.63 کروڑ ووٹرز 1،351 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ نریندر مودی نے ہریانہ میں 11 انتخابی ریلیوں سے خطاب کیا ہے۔

مہاراشٹر میں پہلی بار تین سخت گیر جماعتیں علیحدہ علیحدہ انتخابات لڑ رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمہاراشٹر میں پہلی بار تین سخت گیر جماعتیں علیحدہ علیحدہ انتخابات لڑ رہی ہیں

ریاست میں بی جے پی پہلی بار حکومت بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اوم پرکاش چوٹالہ کی زیر قیادت انڈین نیشنل لوک دل سے بی جے پی کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔