مہاراشٹر، ہریانہ میں اسمبلی انتخابات کیلیے ووٹنگ

بھارت کی دو اہم ریاستوں مہاراشٹر اور ہریانہ میں بدھ کو ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گئے ہیں۔
بھارتی الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ہریانہ میں پولنگ کی شرح 73 فیصد رہی ہے جبکہ مہاراشٹر میں 62 فیصد ووٹروں نے حقِ رائے دہی استعمال کیا ہے۔
ووٹنگ بھارت کے معیاری وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوئی اور یہ شام چھ بجے تک جاری رہی۔
دونوں ریاستوں میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی اتوار کو ہوگی اور اسی دن نتائج آ جائیں گے۔
مبصرین کے مطابق دونوں ریاستوں کے انتخابات بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے بڑا امتحان ہیں کیونکہ عام انتخابات میں بی جے پی کو تاریخی جیت سے ہم کنار کرنے کے بعد پہلی بار ان کی عزت داؤ پر ہے۔
مہاراشٹر میں 288 رکنی اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

اس ریاست میں کانگریس نے 287 اور بی جے پی نے 280 نشستوں پر انتخاب لڑا ہے جبکہ اہم مقامی پارٹی شیوسینا 282 نشستوں اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی 278 نشستوں پر انتخابات لڑ رہی ہیں۔
راج ٹھاکرے کی قیادت والی مہاراشٹر نونرمان سینا 219 سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہے۔ اس طرح بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ مہاراشٹر میں چوطرفہ معرکہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
25 سال بعد یہ پہلا موقع ہے جب بی جے پی اور شیوسینا ایک دوسرے سے علیحدہ ہوکر انتخاب لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔
واضح رہے کہ اس بار 15 سال تک مہاراشٹر میں حکومت کرنے والی کانگریس اور این سی پی اتحاد بھی ختم ہو چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہdaljit Ami
مہاراشٹر میں وزیر اعظم نریندرمودی نے 27 ریلیاں کی ہیں اور مبصرین کے مطابق مکمل انتخابات ان کے نام پر ہی لڑا جا رہا ہے۔
دوسری جانب دہلی سے ملحق ریاست ہریانہ میں بھی بی جے پی کو نریندر مودی کے کرشمے کی امید ہے۔
ریاست کے 1.63 کروڑ ووٹرز 1،351 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ نریندر مودی نے ہریانہ میں 11 انتخابی ریلیوں سے خطاب کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ریاست میں بی جے پی پہلی بار حکومت بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اوم پرکاش چوٹالہ کی زیر قیادت انڈین نیشنل لوک دل سے بی جے پی کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔







