بھارت: جے للیتا کی ضمانت منظور

،تصویر کا ذریعہAP
بھارت کی سپریم کورٹ نے تمل ناڈو کی سابق وزیرِ اعلی جے للیتا کو بیماری کی بنیاد پر ضمانت دے دی ہے۔
جے للیتا کو گذشتہ ماہ آمدنی سے زیادہ جائیداد بنانے پر چار سال کی سزا سنائی گئی تھی۔
کرناٹک کی ہائی کورٹ نےگزشتہ ہفتے جے للیتا کو کروڑوں روپے کی بدعنوانی کا مجرم قرار دیتے ہوئے چار سال قید اور 100 کروڑ روپے جرمانے کا حکم سنایا تھا۔
جے للیتا کو 18 برس تک چلنے والے اس مقدمے میں بدعنوانی کے ذریعے 66 کروڑ بھارتی روپے سے زیادہ کے اثاثے اور املاک بنانے کا قصور وار پایا گیا۔
کرناٹک ہائی کورٹ نے جے للیتا اور ان کے چار ساتھیوں کو کروڑوں روپے کی بدعنوانی کا مجرم قرار دیتے ہوئے ان کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی تھی۔
بھارت کی سپریم کورٹ نے جمعہ کو جے للیتا کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں ہدایت کی کہ وہ کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دو ماہ کے اندر اندر تمام ضروری دستاویزات مکمل کریں۔
66 سالہ جے للیتا کے وکلا نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ ان کی موکل کی خراب طبعیت کی بِنا پر انھیں ضمانت دی جائے اور وہ کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔
جے للیتا کے خلاف آمدنی سے زیادہ جائیداد کے معاملے میں درخواست دینے والے عدالت کے فیصلے کے بارے میں کا کہنا تھا ’جے للیتا اور ان کے ساتھیوں کو اس بنیاد پر رعایت ملی ہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ نے اس بارے میں بحث نہیں کی ہے کہ ان کی سزا کو معطل کیا جائے یا نہیں۔ اس بنیاد پر عدالت نے جے للیتا سے کہا کہ وہ ساری اپیلوں کو ایک ساتھ دستاویز کے طور پر 18 دسمبر تک عدالت میں جمع کروائیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ جے للیتا کے وکیل کو یہ بھی یقین دہانی کروانی پڑی کہ جے للیتا یا ان کی جماعت کے لوگ سپریم کورٹ کے ججوں کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کریں گے تاکہ تمل ناڈو اور کرناٹک میں کوئی تشدد نہ ہو اور انہی بنیادوں پر انھیں ضمانت دی گئی ہے۔
سوامی کے مطابق جے للیتا بیمار ہیں اور اس لیے انھوں نے ضمانت کی مخالفت نہیں کی۔
سزا سنائے جانے کے بعد جے للیتا نے وزارتِ اعلیٰ چھوڑ دی تھی اور اس کے بعد او پننيرسےلوم کو وزیر اعلی بنایا گیا تھا۔







