’بھارت اور امریکہ کی شراکت دنیا کے لیے مثالی ہوگی‘

صدر اوباما نے بھارتی وزیر اعظم سے ان کی مادری زبان گجراتی میں احوال دریافت کیا

،تصویر کا ذریعہPIB INDIA

،تصویر کا کیپشنصدر اوباما نے بھارتی وزیر اعظم سے ان کی مادری زبان گجراتی میں احوال دریافت کیا

امریکی صدر براک اوباما اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے دونوں ممالک کی سٹریٹیجک شراکت داری میں اضافے اور اسے دنیا کے لیے مثال بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

نریندر مودی رواں سال انتخابات میں کامیابی کے بعد پہلی بار امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں۔

ان دونوں رہنماؤں نے پیر کی شب وائٹ ہاؤس میں عشائیے پر ملاقات کی جس کے بعد ’مشترکہ وژن‘ کے عنوان سے جاری بیان میں کہا گیا ہے دونوں رہنما نہ صرف اپنی اقوام بلکہ دنیا بھر کے فائدے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان باضابطہ بات چیت منگل کو ہونی ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان سید اكبرالدین نے بتایا ہے کہ اوباما مودی ملاقات کے موقعے پر دونوں رہنماؤں کے درمیان باہمی تعاون پر بات چیت ہوئی۔

انھوں نے کہا: ’دونوں ممالک یہ محسوس کرتے ہیں کہ بھارت امریکہ تعلقات دنیا میں سب سے زیادہ اہم ہیں۔‘

ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں امریکی صدر اور بھارتی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ دونوں ممالک سکیورٹی کے معاملات میں تعاون کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مل کر لڑیں گے۔

اس کے علاوہ یہ دونوں ملک شفاف اور ضابطے کی بنیاد والے عالمی نظام کی حمایت کریں گے جس کے تحت بھارت کو نئی عالمی ذمہ داریاں ملیں گی اور جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بہتری بھی شامل ہوگی۔

خیال رہے کہ بھارت ایک عرصے سے سلامتی کونسل کے کلیدی ممالک میں شمولیت ہونا اور کونسل میں مستقل نشست حاصل کرنا چاہتا ہے اور امریکی صدر براک اوباما اس کے حامی ہیں۔

نریندر مودی رواں سال انتخابات میں کامیابی کے بعد پہلی بار امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشننریندر مودی رواں سال انتخابات میں کامیابی کے بعد پہلی بار امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہمارا نظریہ ہے کہ امریکہ اور بھارت 21ویں صدی اور ایک دوسرے کے متعمد ساتھیں بنیں گے اور یہ شراکت دنیا کے لیے ایک مثال ہوگی۔‘

بھارت امریکہ وژن بیان کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی سے دونوں ممالک کو خطرہ ہے اور اس کا سامنا مل کر کیا جائے گا جبکہ ایسی اقتصادی ترقی کی کوشش ہوگی جس میں دونوں ممالک کے سب سے زیادہ غریب افراد کو مواقع مل سکیں۔

دونوں ممالک نے خلائی تحقیق کے شعبے میں مشترکہ تحقیق اور تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت اور امریکہ نے حال ہی میں اپنے خلائی مشن کامیابی سے سیارہ مریخ کے مدار میں پہنچائے ہیں اور بھارتی مشن پر امریکی مشن کے مقابلے میں کہیں کم لاگت آئی ہے۔

اس سے قبل نریندر مودی نے نیویارک میں بڑی عالمی کپمنیوں کے سربراہان سے ملاقات کی تھی تاکہ وہ انھیں بھارت میں سرمایہ کاری کے لیے راضی کر سکیں۔

ملاقات کے دوران انھوں نے ان کاروباری شخصیات کو یقین دلایا کہ وہ بھارت کی معیشت کو لبرل بنانے کے لیے تیار ہیں۔