تمل ناڈو: پنیرسلوم جےللیتا کی جگہ لیں گے

بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کی سزا یافتہ وزیرِ اعلیٰ جے للیتا کی سیاسی جماعت نے ان کی جگہ نئے وزیرِ اعلی کے طور پر پنیرسلوم کا انتخاب کیا ہے۔
جے للیتا کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ جے للیتا کی ضمانت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے جبکہ بدعنوانی کے مقدمے میں انھیں دی جانے والے سزا کے خلاف اپیل بھی کریں گے۔
سنیچر کو عدالت نے جے للیتاکو کروڑوں روپے کی بدعنوانی کا مجرم قرار دیتے ہوئے چار سال قید اور 100 کروڑ روپے جرمانے کا حکم سنایا تھا۔
اتوار کو انا ڈی ایم کے پارٹی اراکین کے اجلاس میں پنيرسیلوم کو نیا لیڈر منتخب کیا گیا۔
پنيرسیلوم جے للیتا کی ریاستی حکومت میں وزیر خزانہ تھے اور وہ دوسری بار ریاست کے وزیر اعلی بنیں گے۔
اس سے پہلے وہ ستمبر 2001 میں جے للیتا کے وزیراعلی کے عہدے سے ہٹ جانے کے بعد مختصر مدت کے لیے وزیر اعلی بنے تھے۔
پنيرسیلوم کو جے للیتا کے سب سے وفادار ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی وجہ تھی کہ جب پارٹی 2011 میں پھر اقتدار میں واپس آئی تو پنيرسیلوم کو خزانہ جیسی اہم وزارت دی گئی۔
جے للیتا کو 18 برس تک چلنے والے اس مقدمے میں بےایمانی سے 66 کروڑ بھارتی روپے سے زیادہ کے اثاثے اور املاک بنانے کا قصور وار پایا گیا ہے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مقدمے میں جے للیتا کے ساتھ ان کے تین ساتھیوں کو بھی چار سال قید کی سزا دی گئی ہے جبکہ ان پر دس کروڑ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
یہ مقدمہ تمل ناڈو کے انسداد بدعنوانی کے ادارے نے 1997 میں دائر کیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے 1992 سے 1996 کے دوران اپنے بعض قریبی ساتیھوں کی مدد سے تقریباً 66 کروڑ روپے کے اثاثے بنائے۔
بھارت میں ’ویجیلینس‘ کے محکمے کا کہنا تھا کہ 1991 میں جب جے للیتا وزیر اعلی بنیں تھیں تو ان کے تمام اثاثوں کی مالیت تین کروڑ روپے تھی اور انھوں نے وزیر اعلی کے طور پر ماہانہ صرف ایک روپیہ ٹوکن تنخواہ لی تھی۔
وزیر اعلی بننے کے بعد ان کے پاس کئی بینک کھاتوں میں کروڑوں روپے کے علاوہ مختلف ناموں کی کمپنیاں، 30 کلو سونا ، ایک تفریحی مقام کے پاس ایک ہزار ایکڑ زمین اور 12 ہزار ساڑھیاں پائی گئی تھیں۔
جے للیتا کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ ان کے خلاف یہ مقدمہ ایک سیاسی سازش ہے۔
وہ بدعنوانی کے معاملے میں پہلے بھی جیل جا چکی ہیں۔ یہ مقدمہ اس وقت درج ہوا تھا جب وہ پہلی بار وزیر اعلی بنی تھیں۔ مئی 2011 میں انھوں نے تیسری بار تمل ناڈو کی وزارتِ اعلیٰ کا حلف لیا تھا۔
جے للیتا 1980 کی دہائی میں سیاست میں آئیں اور اس سے پہلے وہ جنوبی بھارت کی فلموں کی مشہور اداکارہ تھیں۔







