’کشمیری رہنماؤں سے بات چیت نئی بات نہیں‘

بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے ایک بار پھر کہا ہے کہ جموں کشمیر متنازع علاقہ ہے لہٰذا اس معاملے پر تمام فریقوں سے بات چیت کرنا ضروری ہے۔
انھوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علیحدگی پسند رہنماؤں سے بات چیت کے مسئلے پر کہا کہ بات چیت کا یہ عمل طویل عرصے سے چلا آ رہا ہے اور اس میں نیا کچھ نہیں ہے۔
انھوں نے کہا: ’ہمارا خیال ہے کہ قیام امن کے عمل میں کشمیری جائز فریق ہیں۔‘
اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’پاکستان اپنے عہد کا پابند ہے اور بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔‘
نئی دہلی میں بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عبدالباسط نے کہا کہ ’دونوں ممالک کے درمیان سیکریٹری سطح کی بات چیت کو منسوخ کیے جانے سے دونوں ممالک کے درمیان جاری قیام امن کے عمل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘
واضح رہے کہ بھارت نے 25 اگست سے سیکریٹری سطح کے مجوزہ مذاکرات کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد متعدد حلقوں سے اس پر حیرت کا اظہار کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
منگل کو عبدالباسط نے نئی دہلی میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن میں حریت رہنما علی شاہ گیلانی سے ملاقات کی اور اس کے بعد میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک سے بھی ملاقات کی۔
عبدالباسط نے یہ بھی کہا کہ ’پاکستان بھی دہشت گردی سے متاثر ہے، ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی رشتوں میں بہتری آنے سے ہی دونوں ممالک کی ترقی ممکن ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان بھارت کی یوم آزادی کے موقعے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تقریر کی تعریف کرتا ہے جس میں انھوں نے سارک ممالک کے درمیان تعاون کی بات کہی تھی۔
تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بہتر باہمی تعلقات کا اثر سارک ممالک کے درمیان تعلقات پر بھی پڑے گا۔
پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے معاملے پر انھوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے بھی گذشتہ دنوں 57 بار جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے کہا ہے کہ امریکہ، بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرانے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔







