بھارت میں بلٹ ٹرین چلانے کا اعلان

بجٹ میں ٹرینوں میں انٹرنیٹ اور بہتر کھانے جیسی بہت سی سہولیات مہیا کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبجٹ میں ٹرینوں میں انٹرنیٹ اور بہتر کھانے جیسی بہت سی سہولیات مہیا کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے منگل کو اپنا پہلا ریلوے بجٹ پیش کیا جس میں جاپان اور چین کی طرز پر تیز رفتار بلٹ ٹرین چلانے اور ریلوے کے شعبے میں غیرملکی سرمایہ کاری کی اجازت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

حکومت نے پارلیمان کے اجلاس سے پہلے ہی ریل کے کرایوں میں بھاری اضافہ کیا تھا اس لیے کرایوں کے سلسلے میں منگل کو مزید کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

انڈین ریلوے کا شمار دنیا کے سب سے بڑے ریل نیٹ ورکس میں کیا جاتا ہے۔ ملک میں 62 ہزار کلومیٹرسے زیادہ لمبی پٹریوں پر ہر روز 19 ہزار ریل گاڑیاں چلتی ہیں اور 2013 میں آٹھ ارب مسافروں نے ان ریل گاڑیوں میں سفر کیا۔ یہ اعدادو شمار دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔

اسی لیے بھارت میں ریلوے کا بجٹ الگ سے پیش کیا جاتا ہے اور اس میں عام لوگوں کی خاص دلچسپی ہوتی ہے۔

اپنے پہلا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر ریولے سدانند گوڑا نے کہا کہ ریلوے کے بنیادی ڈھانچے اور سلامتی کے ریکارڈ کو فوری طور پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ریلوے کے شعبے میں نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی جائےگی۔

لیکن سب سے زیادہ دلچسپی اس اعلان میں رہی کہ ملک میں بلٹ ٹرینیں چلائی جائیں گی اور موجودہ ریل گاڑیوں کی رفتار بڑھائی جائے گی۔

بلٹ ٹرینز کی ابتدا وزیراعظم نریندر مودی کی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد اور ممبئی کے درمیان کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ملک کے چاروں بڑے شہروں کو تیز رفتار ٹرینوں سے جوڑنے کی بھی تجویز ہے۔

البتہ بلٹ ٹرینوں کے لیے نئی پٹریاں بچھانے کی ضرورت ہوگی اور اس منصوبے کو عملی شکل دینے میں کئی سال لگیں گے۔

انڈین ریلوے کا شمار دنیا کے سب سے بڑے ریل نیٹ ورکس میں کیا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK

،تصویر کا کیپشنانڈین ریلوے کا شمار دنیا کے سب سے بڑے ریل نیٹ ورکس میں کیا جاتا ہے

سدانند گوڑا نے ٹرینوں میں انٹرنیٹ اور بہتر کھانے جیسی بہت سی سہولیات مہیا کرنے کا بھی وعدہ کیا لیکن کہا کہ ترجیح ان منصوبوں کو دی جائے گی جو ابھی تک ادھورے پڑے ہیں۔

بجٹ پر اپنے ردعمل میں کانگریس پارٹی کے لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ اس میں کئی ریاستوں کو پوری طرح نظر انداز کیا گیا ہے۔

بھارتی ریلوے کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ریلوے کے سابق اعلیٰ افسر کے سی جینا کہتے ہیں کہ بلٹ ٹرین کے پراجیکٹ پر عمل درآمد ممکن تو ہے لیکن اس کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایے کی ضرورت ہوگی۔

انڈین ریلوے فی الحال بھاری خسارے میں جا رہی ہے اور بلٹ ٹرین کا خواب پورا کرنے سے قبل حکومت کی کوشش ہوگی کہ پہلے ریلوے کا محکمہ واپس پٹری پر آ جائے۔