’برتری‘ غنی کی مگر ڈاکٹر عبداللہ کا جیت کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہAFP
افغانستان میں گذشتہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں امیدوار عبداللہ عبداللہ نے غیر سرکاری نتائج میں اپنے مدِمقابل اشرف غنی کی برتری کو رد کرتے ہوئے اپنی کامیابی کا دعویٰ کر دیا ہے۔
دارالحکومت کابل میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے اپنی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے انتخابی عمل میں بدعنوانی اور بے قاعدگیوں کے الزامات دہرائے۔
قبل ازیں عبداللہ عبداللہ کی طرف سے متوازی حکومت بنانے کی خبروں کے پس منظر میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے خبردار کیا تھا کہ کوئی اقتدار غصب کرنے کی کوشش نہ کرے۔ انھوں نے کہا تھا کہ غیر قانونی طریقے سے حکومت پر قبضے سے افغانستان کو ملنے والا امریکی تعاون ختم ہو سکتا ہے۔
دریں اثنا کابل کے قریب ایک بم دھماکے میںنیٹو کے چار فوجیوں سمیت 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ بگرام میں سب سے بڑے امریکی اڈے کے قریب ایک مطب پر حملے میں دس شہری اور دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔
عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ وہ کبھی غیر منصفانہ انتخابات کو قبول نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’انتخاب کے اس دور میں بلاشبہ ہم فاتح ہیں۔‘
پیر کو سامنے آنے والے ابتدائی نتائج کے مطابق اشرف غنی نے 14 جون کو ہونے والی پولنگ میں 56 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیے، جبکہ عبداللہ عبداللہ نے 43 فیصد سے کچھ زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔
عبداللہ عبداللہ نے کابل میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ دھوکے سے بننے والی حکومت کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل عبداللہ عبداللہ نے بی بی سی سے بات کرتے کہا تھا کہ وہ اپنے مخالف امیدوار کی جیت کا احترام کریں گے، تاہم یہ صرف اسی صورت میں ہوگا اگر یہ ثابت کر دیا جائے کہ یہ انتخاب شفاف ہے۔
دونوں امیدواروں نے ووٹنگ میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے جن کے بعد انتخابات کے صوبائی نتائج ووٹوں کی جانچ کے لیے ایک ہفتے تک کے لیے موخر کر دیےگئے تھے۔
سب سے بڑا اعتراض ٹرن آؤٹ کے بہت بڑی تعداد پر ہے کیونکہ یہ پہلے مرحلے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ بعض حلقوں میں امیدواروں کو مشتبہ حد تک زیادہ ووٹ ملے اور خواتین کے ووٹوں کی تعداد بھی بہت زیادہ رہی جو مقامی روایات کے خلاف ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ کے ہزاروں حامیوں نے دھاندلی کے خلاف مظاہرے بھی کیے۔







