ہومی بھابھا کی زندگی کے ’پوشیدہ پہلو‘

،تصویر کا ذریعہTIFR
ہومی جہانگیر بھابھا کا ایک کتا ہوا کرتا تھا۔ اس کے بڑے لمبے لمبے کان ہوتے تھے جسے وہ كيوپڈ کہہ کر پکارتے تھے اور روز اسے سڑک پر گھمانے لے جاتے تھے۔
جیسے ہی بھا بھا گھر لوٹتے تھے وہ کتا دوڑ کر ان کے پاس آ کر ان کے پاؤں چاٹتا تھا جب بھابھا کا ایک طیارے کے حادثے میں انتقال ہوا تو اس کتے نے پورے ایک ماہ تک کچھ نہیں کھایا.
روز ڈاکٹر آ کر اسے دوائی دیتے تھے لیکن وہ کتا صرف پانی پیا کرتا تھا اور کھانے کو منہ نہیں لگاتا تھا۔ ان کی موت کے بعد وہ زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہ پایا۔
بھارت کے جوہری پروگرام کے بانی بھا بھا بھی ایک انسان ہی تھے اور ہر انسان مکمل طور پر پرفیکٹ نہیں ہوتا بھا بھا بھی کی صرف ایک کمی تھی کہ وہ یہ کہ وہ وقت کے پابند نہیں تھے۔

،تصویر کا ذریعہTIFR
اِندرا چودھری کہتی تھیں ہیں، کہ انھیں وقت کا کوئی اندازہ نہیں رہتا تھا جو لوگ ان سے ملاقات کا وقت لیتے تھے وہ انتظار کرتے رہتے تھے یہاں تک کہ بین الاقوامی جوہری ایجنسی، ویانا میں وہ کبھی کبھی اجلاسوں میں بہت دیر سے آتے تھے۔
’ان لوگوں نے اس کا حل یہ نکالا تھا کہ وہ میٹنگ کے لیے انھیں آدھا گھنٹہ پہلے کا وقت بتاتے تھے تاکہ بھابھا کو دیر سے آنے کا بہانہ نہ مل سکے‘۔
بھابھا کو پانچ بار طبیعیات کا نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔ بھابھا کی زندگی کی کہانی جدید بھارت کے تعمیر کی کہانی بھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہTIFR
ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے جےار ڈی ٹاٹا نے کہا تھا، ’ہومی بھا بھا ان تین عظیم شخصیات میں سے ایک ہیں جنہیں مجھے اس دنیا میں جاننے کا شرف ملا ہے ان میں سے ایک تھے جواہر لال نہرو، دوسرے تھے مہاتما گاندھی اور تیسرے ہومی بھا بھا تھے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ہومی نہ صرف ایک عظیم سائنسدان تھے بلکہ ایک عظیم انجینئر، موجِد اور اس کے علاوہ وہ ایک فنکار بھی تھے اصل میں جتنی بھی اہم شخصیات سے میری ملاقات ہوئی ان میں سے ہومی اکیلے شخص ہیں ... جنہیں ’مکمل انسان‘ کہا جا سکتا ہے‘۔
جہانگیر ہومی بھا بھا کی پیدائش 1909 میں ہوئی اور 1966 میں ایک ہوائی حادثے میں انتقال کر گئے۔







