’سمیتا اب پہلے سے زیادہ خوش ہے‘

،تصویر کا ذریعہ
سمیتا بجر اچاریا بھی 12 برس کی عام بچیوں کی طرح اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتی ہے، پڑھائی کرتی ہے اور کھیلتی ہے۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے تک لوگ سمیتا کی پوجا کرتے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ یہ لڑکی ایک دیوی کا دوسرا جنم ہے۔
کھٹمنڈو کے قریب واقع لالت پور کی تنگ اور پر پیچ گلیوں سے گذرتے ہوئے جب آپ ایک کھلے صحن میں پہنچتے ہیں تو آپ کو ایک عام سا گھر دکھائی دیتا ہے جس کے دروازے پر کندہ ہے ’زندہ دیوی‘۔
لکڑی کے ایک تنگ زینے سے چڑھتے ہوئےآپ گھر کی دوسری منزل تک پہنچتے ہیں، اور یہی وہ جگہ ہے جہاں پر یہ دیوی اپنا بچپن گذار رہی ہے۔ سمیتا کو لوگ ’کماری‘ کے نام سے جانتے ہیں جس کا مطلب ہے ’کنواری لڑکی۔‘
سمیتا کی پوجا کرنے والوں میں ہندو اور بدھ مت کے ماننے والے دونوں شامل ہیں اور انھیں یقین ہے کہ وہ مشہور ہندو دیوی ’دُرگا‘ کا کوئی جنم ہے۔
میں چونکہ نیپال کئی مرتبہ آ چکی ہوں، اس لیے میں اس کماری کی والدہ کو بھی جانتی ہوں۔
میں نے ان سے پوچھا کہ ’آپ کو کیسا لگا جب آپ کی بیٹی سمیتا کو کماری چنا گیا؟‘

،تصویر کا ذریعہGetty
’مجھے خوشی ہوئی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں غمگین بھی ہوئی۔ خوشی اس لیے کہ میری بیٹی کو خدا ماناگیا۔ کسی کے گھر پر خدا موجود ہو تو اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ لیکن مجھے ڈر بھی لگا کیونکہ مجھے یقین نہیں تھا کہ ہم تمام اصولوں پر عمل کر سکیں گے۔‘
دیوی ہونے کے بہت سے سے اصول اور ضابطے ہوتے ہیں۔ مثلاً سمیتا کی والدہ کو اپنی بیٹی کے چہرے پر دیویوں والا سنگھار کرنا ہوتا ہے جو کہ اتنا آسان نہیں ہوتا۔ ماسوائے چند مخصوص تہواروں کے، لڑکی کوگھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اور جب وہ گھر سے باہر جاتی بھی ہے، تو ضروری ہے کہ اس کے پیر زمین کو کبھی نہ چُھوئیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نوجوان دیوی کو ہر وقت کسی نے اٹھائے رکھنا ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہی نہیں، بلکہ کماری اپنے گھر کے افراد اور قریبی سہیلیوں کے علاوہ کسی تیسرے سے بات بھی نہیں کر سکتی۔
کسی نوجوان دیوی کی زندگی کیا ہوتی ہے، یہ جاننے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ آپ یہ کسی ایسی لڑکی سے پوچھیں جو خود کماری رہ چکی ہو۔
چناچہ میں چنیرا سے ملنے چلی گئی جو سمیتا سے پہلے کماری ہوا کرتی تھی۔
ہم دونوں ایک تاریک ہُجرے کے فرش پر بیٹھ گئے جہاں چنیرا پچھلے دس برس سے عبادت کر رہی ہے اور وہاں آنے والوں کی مرادیں پوری ہونے کی دعائیں کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
’جب میں دیوی تھی، تب میں اپنے گھر کی کھڑکیوں سے چھپ چھپ کر باہر دیکھتی تھی۔ دیوی ہونا ایسا ہی جیسے آپ کوئی شہزادی ہوں جسے ہر چیز گھر پر مہیا کی جاتی ہو۔ اُن دنوں مجھے گھر سے باہر جانے کی بھی خواہش نہیں ہوتی تھی، بلکہ مجھےگھر پر رہ کر ایک روحانی زندگی گذارنا زیادہ اچھا لگتا تھا۔‘
لیکن چنیرہ دیوی کی یہ زندگی ایک دن اچانک اس وقت ختم ہو گئی جب وہ بالغ ہوگئی۔ اس دن کے بعد وہ کماری نہیں رہی۔
چنیرہ کہتی ہے کہ اس اچانک تبدیلی سے نمٹنا مشکل تھا۔
’جب مجھے پہلی مرتبہ گھر سے باہر قدم رکھنا پڑا، مجھے ٹھیک سے چلنا بھی نہیں آتا تھا۔ شروع شروع میں میرے ماں باپ میرا ہاتھ تھامے رکھتے تھے اور مجھے سکھاتے تھے کہ چلتے کیسے ہیں۔
جب وہ کماری تھی تو استاد اسےگھر پر پڑھانے آتے تھے۔ اور پھر اچانک اس نے دوسرے بچوں کے ساتھ سکول جانا شروع کر دیا۔ ’یہ میرے لیے ایک بڑا امتحان تھا۔ میری جماعت کی تمام لڑکیاں مجھ سے بات کرتے ہوئے اتنا زیادہ ڈرتی تھیں کیونکہ میں ایک دیوی رہ چکی تھی۔ میرے ساتھ سب کا رویہ ذرا مختلف ہوتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
’یہاں تک کہ کچھ لڑکیوں نے مجھے ’ایلین‘ یا اجنبی مخلوق کہنا شروع کر دیا تھا۔‘
چنیرہ کہتی ہے کہ اس اچانک تبدیلی سے وہ پریشان ہو گئی تھی کیونکہ لوگوں نے اس کے سامنے جھکنا بھی چھوڑ دیا اور اس کے پاؤں چھونا بھی چھوڑ دیا۔
جوں ہی چنیرہ کا دور ختم ہوا، مقامی ہندو اور بدھ پیشواؤں نے ایک نئی بچی کو کماری چُن لیا۔ نئی کماری چنیرہ کی قریبی سہیلی سمیتا کو چناگیا جو چنیرہ کو اتنی عزیز ہے کہ وہ اسے اپنی چھوٹی بہن سمجھتی ہے۔
’جب میں دیوی ہوتی تھی، وہ ان دنوں مجھے ملنے آیا کرتی تھی۔ اس لیے اسے پتہ ہے کہ ایک دیوی کی زندگی کیا ہوتی ہے۔‘

سمیتا کے بارے میں بات کرتے ہوئے چنیرہ نے مجھے مزید بتایا کہ اس نے اپنی سہیلی کی کیسے مدد کی اور اسے بتایا کہ کماری ہونے کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں۔
بہت دنوں بعد مجھے چنیرہ کا خط ملا جس میں اس نے لکھا کہ ’آخر کار جس دن سمیتا کو پہلی مرتبہ ماہواری ہوئی، اسے ایک تاریک کمرے میں بند کر دیا گیا جہاں سورج کی کوئی کرن نہیں آ سکتی تھی۔ کمرے میں کسی مرد کو جانے کی اجازت نہیں تھی، تاہم اس کے ساتھ بہت سی سہلیاں اور خواتین موجود تھیں۔‘
چنیرہ ان دنوں بھی اپنی دوست کی مدد کے لیے حاضر تھی تا کہ ایک مرتبہ پھر وہ ایک نئی زندگی میں داخل ہوتے وقت اپنی بہترین دوست کی مدد کر سکے۔ ماہواری کے بارہ روز بعد سمیتا کا کماری کا درجہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا اور آخر وہ دن بھی آ گیا جب سمیتا کو اپنے گھر سے باہر قدم رکھنے کی اجازت مل گئی۔
اب سمیتا نے بھی سکول جانا شروع کر دیا ہے جہاں وہ نئی سہیلیاں بنا رہی ہے۔
’میرا خیال ہے کہ سمیتا اب پہلے سے زیادہ خوش ہے۔‘







