سری لنکا میں بدھ مسلمان فسادات کے بعد کرفیو نافذ

سری لنکا میں ایک بنیاد پرست بدھ گروپ اور مسلمانوں کے درمیان جھڑپوں کو روکنے کے لیے انتظامیہ نے دو جنوبی شہروں میں کرفیو لگا دیا ہے۔
آلتھگاما شہر میں ایک بدھ مت کے پیروکاروں کی ریلی کے بعد تشدد شروع ہوا۔
اس تشدد کے نتیجے میں کئی لوگوں کے زخمی ہونے، ریلی میں شامل لوگوں پر پتھراؤ کرنے اور دکانیں جلانے کی اطلاعات ہیں۔
بعد میں بیرووالا شہر میں بھی کرفیو لگایا گیا جو ایک مسلم اکثریتی شہر ہے۔
بدھ مت اکثریت والے سری لنکا کی آبادی میں تقریبا 10 فیصد مسلمان ہیں۔
حالیہ دنوں میں نسلی حملوں کے بعد مسلم رہنماؤں نے صدر مہندا راج پكشے سے یہ اپیل کی کہ انہیں تشدد سے تحفظ دیا جائے۔ دوسری طرف بدھ مت کمیونٹی کا الزام ہے کہ اقلیتوں کا حکومت پر ضرورت سے زیادہ اثر ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق مسلمانوں کو مقامی بسوں سے اتار کر مارا گیا اور لوٹ مار کی خبریں بھی ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ بوڈو بالا سینا یا بدھ مت بریگیڈ کی ریلی کے بعد یہ جھڑپیں شروع ہوئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تین دن پہلے ایک بدھ راہب کے ڈرائیور اور مسلم نوجوانوں کے درمیان تھوڑی سی جھڑپ بھی ہوئی تھی۔
خبروں کے مطابق ریلی منعقد کرنے کے بعد بوڈو بالا سینا نے مسلم علاقوں میں گھس کر مسلم مخالف نعرے لگائے اور پولیس کو تشدد کو دبانے کے لیے آنسو گیس استعمال کرنی پڑی۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے فائرنگ بھی کی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے گھروں اور ایک مسجد پر پتھراؤ کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
آلتھگاما میں موجود ایک بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حالات واضح نہیں ہیں اور کئی اور علاقوں میں تشدد پھیل گیا ہے۔
ایسا لگ رہا ہے کہ سری لنکا کے میڈیا نے تشدد کی خبریں شائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس کا ذکر کہیں کہیں نظر آتا ہے۔
صدر مہندا راجپكشے نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
صدر نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’حکومت کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لینے دے گی۔ میں ہر ایک سے ضبط برتنے کی اپیل کرتا ہوں۔‘







