ڈیئر میاں صاحب، آپ کے خط کا شکریہ: مودی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ’تشدد اور محاذ آرائی سے پاک ماحول میں‘ مل کر کام کرنا اور باہمی رشتوں میں ایک نئے باب کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔
وزیراعظم مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کے خط کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ڈیئر میاں صاحب، آپ کے خط کا شکریہ اور گذشتہ ماہ اپنے انڈیا کے دورے کے بارے میں آپ کے ان مثبت جذبات کا بھی جن کا اظہار آپ نے اپنے خط میں کیا ہے۔‘
اس سے پہلے وزیراعظم نواز شریف نے وزیر اعظم مودی کی دعوت پر ان کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی تھی اور وطن لوٹنے کے بعد وزیراعظم مودی کے نام ایک خط میں کہا تھا کہ وہ اپنے دورے سے خاصے مطمئن ہیں اور تمام باہمی تنازعات ہم آہنگی کے ماحول میں حل کرنا چاہتے ہیں۔
اپنے جواب میں وزیر اعظم مودی نے لکھا ہے کہ حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعظم نواز شریف کی شرکت سے انھیں بہت خوشی ہوئی اور سارک ممالک کے رہنماؤں کی شرکت سے تقریب حلف برداری کی رونق بڑھ گئی: ’یہ ہمارے خطے میں جمہوریت کی طاقت کا جشن تھا اور ہماری مشترک آرزوؤں اور تقدیر کا مظہر بھی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’باہمی رشتوں پر ہمارے درمیان جو بات چیت ہوئی اور اس میں نظریات کی جو مماثلت سامنے آئی، اس سے میں بہت خوش ہوں۔۔۔ خاص طور پر اس بات سے کہ اگر انڈیا اور پاکستان کے تعلقات امن، دوستی اور تعاون کی بنیاد پر قائم ہوں تو ہمارے نوجوانوں اور پورے خطے کے لیے خوشحالی اور ترقی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
’میں آپ کے اور آپ کی حکومت کے ساتھ تشدد اور محاذ آرائی سے پاک ماحول میں باہمی رشتوں کے ایک نئے باب کا آغاز کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ اور میں اس ساڑھی کے لیے بھی آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو آپ نے میری والدہ کے لیے بھیجی ہے، آپ کے جذبے سے وہ بہت خوش ہیں۔‘
وزیراعظم مودی نے کراچی ایئر پورٹ پر عسکریت پسندوں کے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں معصوم لوگوں کی ہلاکت پر انھیں بہت افسوس ہے۔
انڈیا میں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حلف برداری کی تقریب میں سارک ممالک کے رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دینا ایک ’سفارتی ماسٹر سٹروک‘ تھا جس سے وزیراعظم مودی کو اپنے پاکستانی ہم منصب سے آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے اور انھیں سمجھنے کا موقع ملا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پارلیمانی انتخابات کے دوران وزیر اعظم مودی نے پاکستان کے لیے انتہائی سخت زبان استعمال کی تھی اور بہت سے تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ وہ باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش میں کوئی ایسا پیغام دینے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے جس سے یہ تاثر پیدا ہو کہ ان کے موقف میں کوئی نرمی آئی ہے۔
سابق سفارت کاروں اور سکیورٹی امور کے تجزیہ نگاروں کا موقف ہے کہ اگر لائن آف کنٹرول پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو باہمی رشتوں میں اس نئی گرم جوشی کی اصل آزمائش ہوگی کیونکہ وزیر اعظم مودی کو پھر وہ سخت موقف اختیار کرنا پڑے گا جس کی بی جے پی ہمیشہ سے وکالت کرتی رہی ہے۔







