دہلی دورے پر نواز شریف کی کون سی آرزو پوری نہ ہو سکی؟

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے بھارتی دورے کو اگر پاکستانی میڈیا میں کشمیر کے مسئلے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے تو وہیں پاکستانی وزیر اعظم کو اپنی ایک دیرینہ خواہش پوری نہ ہونے کا ملال ہے۔
وزیر اعظم شریف کے بھارتی دورے پر ایکسپریس ٹریبیون نے لکھا ’ہم مبارک باد دینے گئے تھے اور لوٹے شو کاز نوٹس کے ساتھ۔‘
انھیں بھارت کے دو روزہ دورے کے دوران ایک بار بھی کشمیر کا مسئلہ نہ اٹھانے اور بھارت پاکستان کے درمیان پانی کے تنازعے کا ذکر نہ کرنے کے لیے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے نواز شریف کے دہلی دورے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہر طرح سے کامیاب حالات کو انتہائی تباہ کن بنا دیا گیا‘۔
ان مسائل کے عدم ذکر کی میاں محمد نواز شریف کی اپنی مخصوص توجیہ ہوگی لیکن ایک بات جس کا انھوں نے برملا اظہار کیا وہ یہ ہے کہ بھارتی دورے پر ان کی دو خواہشات پوری نہ ہو سکیں۔
دراصل نواز شریف اپنے اس بھارتی دورے پر بالی وڈ کے سپر سٹار اداکار امیتابھ بچن اور مایہ ناز گلوکارہ لتا منگیشکر سے ملاقات کی خواہش رکھتے تھے۔
نواز شریف نے امیتابھ بچن اور لتا منگیشکر سے ملاقات کی خواہش کا اظہار بذات خود معروف اداکارہ شبانہ اعظمی سے کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دہلی میں ایک نجی پارٹی میں شبانہ اعظمی اور نواز شریف کی ملاقات ہوئی جہاں دونوں کے درمیان فن، ثقافت اور فلموں کے متنوع اور رنگا رنگ موضوعات پر باتیں ہوئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بات چیت کے دوران نواز شریف نے شبانہ اعظمی کو یہ بھی بتایا کہ وہ شبانہ کے والد کیفی اعظمی اور ان کے شوہر جاوید اختر کے مداح ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے برصغیر کی ممتاز گلوکارہ لتا منگیشکر اور امیتابھ بچن سے ملاقات کی اپنی خواہشات کا بھی اظہار کیا۔
واضح رہے کہ امیتابھ بچن اور لتا منگیشکر دونوں ہی نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں متوقع تھے لیکن وہ شریک نہ ہوسکے۔
اگر دونوں اس میں شرکت کرتے تو نواز شریف کی ان سے ملنے کی تمنا بھی پوری ہو جاتی۔
دریں اثنا نواز شریف کی بیٹی مریم نے ٹوئٹر پر نریندر مودی کی تعریف کی اور دادی کے لیے بھیجے جانے والے تحفے شال کا شکریہ ادا کیا۔







