قیدیوں کے تبادلے پر رپبلکن پارٹی کی سخت تنقید

،تصویر کا ذریعہ
امریکہ کی بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان طالبان کی قید سے ایک امریکی قیدی کی رہائی کے بدلے گوانتانامو کے پانچ قیدیوں کے تبادلے پر رسہ کشی جاری ہے۔
امریکہ کی اہم جماعت رپبلکن پارٹی نے کہا ہے کہ اس سے امریکیوں کی جانیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔
سابق صدارتی امیدوار سینیٹر جان میک کین نے کہا کہ جن قیدیوں کو قطر کے حوالے کیا گیا ہے وہ ’انتہائی خطرناک قسم کے لوگوں میں شامل ہیں۔‘
ادھر افغان طالبان کے سربراہ ملا عمر نے ایک بیان میں امریکی فوجی کے بدلے پانچ طالبان رہنماؤں کی رہائی کو’ بڑی فتح‘ قرار دیا ہے۔
ملا عمر کے بیان میں’مسلمان افغان قوم کو دل کی گہرائی سے مبارکباد‘ دی گئی ہے۔
<link type="page"><caption> گوانتانامو کے پانچ افغان قیدیوں کے بدلے امریکی فوجی رہا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2014/05/140531_us_soldier_released_exchange_afghan_detainees_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> قیدیوں کے تبادلے پر امریکہ سے مذاکرات معطل: طالبان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2014/02/140223_afghan_taliban_us_talks_suspended_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
واضح رہے کہ افغانستان نے بھی قیدیوں کے اس تبادلے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ قیدیوں کو ایک تیسرے ملک کے حوالے کیا جانا ’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
28 سالہ امریکی سارجنٹ بووی رابرٹ برگڈل کو تقریباً پانچ سال بعد طالبان کی قید سے سنیچر کو رہائی ملی ہے اور انھیں امریکہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
اتوار کو ایک انتہائی جذباتی خطاب میں ان کے والد رابرٹ برگڈل نے کہا کہ انھیں اپنے بیٹے پر فخر ہے کہ وہ افغان باشندوں کی مدد کرنے کا خواہاں تھا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی بازیابی میں لمبا عرصہ لگے گا۔

،تصویر کا ذریعہAP
انھوں نے کہا کہ ابھی انھوں نے اپنے فوجی بیٹے سے بات نہیں کی ہے تاہم اس کی حالت اچھی ہے اور فی الحال جرمنی میں قائم ایک امریکی ہسپتال میں اس کا طبی معائنہ جاری ہے۔
بہت سے رپبلکن رہنماؤں نے اس معاہدے کی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ایک ’خراب روش قائم ہوتی ہے‘ اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ’دہشت گردوں سے سودے بازی کرنا۔‘
سینیٹر میک کین نے سی بی ایس ٹی وی پر ایک بیان میں کہا کہ ’جو طالبان رہا کیے گئے ہیں وہ ممکنہ طور پر ہزاروں لوگوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں اور وہ دوبارہ جنگ میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
ہاؤس انٹیلیجنس کمیٹی کے سربراہ رپبلکن مائک روجرس نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے القاعدہ کے تاوان کے لیے اب ’ایک قیمت طے کردی ہے۔‘
رپبلکن پارٹی کے نمائندے ایڈم کنزنجر نے کہا کہ وہ سرجنٹ برگڈل کی واپسی کا جشن منائیں گے لیکن افغان قیدیوں کی رہائی کو ’افسوسناک‘ قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس تبادلے کے معاہدے کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کیونکہ اوباما انتظامیہ نے کانگریس کو طالبان قیدیوں کی منتقلی کے بارے میں مناسب نوٹس نہیں دیا۔
لیکن وزیر دفاع چک ہیگل جو، فی الحال افغانستان کے دورے پر ہیں، انھوں نے فوری طور پر ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ فوج کو ایک فوجی کی جان بچانے کے لیے فوری عمل کرنا پڑا۔
انھوں نے این بی سی ٹی وی کو بتایا کہ ’ہم نے دہشت گردوں سے کوئی سودا نہیں کیا۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی واضح کیا ہے کہ سرجنٹ برگڈل جنگی قیدی تھے اور اپنے قیدی واپس لینے کے لیے یہ معمول کی کارروائی ہے۔‘
امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزین رائس نے کہا کہ سرجنٹ برگڈل کی گرتی صحت نے ’انتہائی تیزی سے عمل کرنے‘ پر مجبور کر دیا تھا اور اسی لیے ’ضروری اور مناسب‘ یہی سمجھا گیا کہ 30 دنوں کے نوٹس دینے والے ضابطے کا خیال نہ رکھا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
کہا جاتا ہے کہ گوانتانامو بے سے رہا کیے جانے والے قیدی انتہائی سینیئر افغان جنگجو ہیں۔ معاہدے کے مطابق ایک سال تک وہ قطر سے باہر نہیں جا سکتے۔
گوانتانامو بے سے رہا کیے جانے والے قیدیوں میں محمد فضل، خیراللہ خیرخواہ، عبدالحق واثق، ملا نوراللہ نوری، اور محمد نبی قمری شامل ہیں۔
امریکی فوجی کی رہائی کے چند گھنٹوں بعد صدر براک اوباما نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ قطری حکومت نے امریکہ کو اطمینان دلایا ہے کہ ’وہ ہمارے قومی مفاد کے تحفظ کے لیے اقدام کرے گی۔‘







