گوانتانامو کے پانچ افغان قیدیوں کے بدلے امریکی فوجی رہا

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پانچ سال سے طالبان کے زیر حراست امریکی فوجی کو پانچ افغان قیدیوں کے بدلے رہا کردیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق 28 سالہ امریکی سارجنٹ بووی رابرٹ برگڈل کو صحیح سلامت امریکی حکام کے حوالے کیا گیا۔
امریکی فوجی کے بدلے امریکہ نے گوانتانامو بے سے پانچ افغان قیدیوں کو رہا کیا ہے۔
<link type="page"><caption> قیدیوں کے تبادلے پر امریکہ سے مذاکرات معطل: طالبان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2014/02/140223_afghan_taliban_us_talks_suspended_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
ان پانچ افغان قیدیوں کو قطر کے حوالے کیا گیا جس نے اس تبادلے میں اہم کردار ادا کیا۔
واضح رہے کہ امریکی سارجنٹ برگاڈل واحد امریکی فوجی ہے جو افغان طالبان کے زیر حراست تھا۔
پینٹاگون کے مطابق بووی رابرٹ برگڈل مشرقی افغانستان کے صوبہ پکتی میں متعین الاسکا سے تعلق رکھنے والی انفنٹری سے ریجنٹ سے متعلق تھا۔
وہ افغانستان پہنچنے کے پانچ ماہ بعد ہی اپنے اڈے سے لاپتہ ہو گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بووی رابرٹ برگڈل کی محفوظ بازیابی پر انعام بھی مقرر کیا گیا تھا۔
رواں سال فروری میں افغان طالبان نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ سے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر ہونے والے مذاکرات معطل کر دیے گئے ہیں۔
ان مذاکرات میں 2009 سے طالبان کی قید میں موجود امریکی فوجی سارجنٹ بوئے برگڈال کے بدلے گوانتاناموبے میں قید پانچ طالبان قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر بات چیت ہو رہی تھی۔
گذشتہ کچھ عرصے سے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں ہونے والے مذاکرات خبریں تو سامنے آ رہی تھیں تاہم پہلی بار طالبان نے ان کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے معطل کیے جانے کا اعلان کیا تھا۔
یہ معاملہ رواں سال جنوری سے امریکی کانگرس میں زیرِ بحث تھا۔ جس کے بعد امریکہ نے شرط رکھی تھی کہ سارجنٹ بوئے برگڈال کے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کیا جائے۔
اس کے جواب میں طالبان نے اسی ماہ امریکی فوجی کی ویڈیو جاری کی تھی اور اس کے حالیہ ہونے کے ثبوت کے طور پر اس میں جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کی وفات کا ذکر کیا گیا تھا۔
طالبان کی قید میں موجود سارجنٹ بوئے برگڈال کے بارے میں پہلے یہ خیال تھا کہ یہ حقانی گروپ کے پاس ہے کیونکہ یہ پہلے سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں حقانی گروپ کے ایک رہنما ملا سنگین کے ساتھ دکھائی دیے تھے۔







