کمزور طبقے کو کچلنے کے لیے ریپ کا ارتکاب

انڈیا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشندوسری ذات کے لوگوں کے ذریعے دلتوں کوجنسی طور پر زدو کوب کیے جانےکا ایک طویل سلسلہ ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، دہلی

بھارت کی ریاست اتر پردیش ان دنوں بدایوں ضلع ریپ کے ایک انتہائی دردناک واقعہ کے سبب عالمی خبروں میں ہے ۔

گذشتہ دنوں یہاں ایک گاؤں کے کچھ با اثر لوگوں نے دو کمسِن دلت لڑکیوں کے اجتماعی ریپ کے بعد ان کے رشتے داروں کو دہشت زدہ کرنے کے لیے انھیں قتل کر کے ایک درخت سے لٹکا دیا ۔

ریپ سے قتل تک کا یہ خوفناک سلسلہ کئی گھنٹے تک چلا اور اس درمیان بچیوں کے والدین مقامی پولیس کے سامنے اپنی معصوم ییٹیوں کو تلاش کرنے کی فریاد کرتے رہے لیکن پولیس نے ان کی مدد کرنے کے بجائے مبینہ قاتلوں کی مدد کی۔

ان با اثر لوگوں کا خوف اتنا زیادہ تھا کہ ان کی گرفتاری کے دو روز بعد بھی بچیوں کے والدین میڈیا کے سامنے اپنی بچیوں کے ریپ کرنے والوں اور ان کے قاتلوں کا نام لینے کی جسارت نہیں کر پا رہے تھے۔اس واقعہ کے میڈیا میں آتے ہی پولیس حرکت میں آ گئی اور پولیس والوں سمیت سب ہی ملزماں کو گرفتار کر لیا گیا۔

اس واقع کو میڈیا نے شاید بہت شدت سے اس لیے دکھایا کیونکہ اتر پردیش میں جو حکومت ہے وہ مودی کی حکومت کے خلاف ہے۔

بدائیوں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبدائیوں ریپ کیس کو میڈیا نے بڑی توجہ دی جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی

اگر مجرموں کے حوصلے ریاستی انتظامیہ کی بے حسی اور لاقانونیت کے سبب بڑھیں ہیں تو میڈیا بھی مودی نوازی کے کلمے پڑھ رہا ہے۔ لیکن ان سب کے درمیان سب سے تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے 65 برس بعد بھی دلتوں کے خلاف سنگین جنسی جرائم کے واقعات نہ صرف تسلسل کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں بلکہ ان عناصر کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے اور یہ بے خوف و خطر اتراتے پھر رہے ہیں۔ دلتوں کے سلسلے میں پولیس اور انتظامیہ کا رویہ انتہائی غیر ذمےدرانہ اور اکثر مخالفانہ رہتا ہے۔

بھارت میں ریپ اور جنسی جرائم کمزور طبقوں کو کچلنے اور اپنا اثر و رسوخ مسلط کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔جنسی حملے خواتین کے بارے میں بھارتی معاشرے میں عمومی سوچ کے بھی عکاس ہیں۔ دلتوں کو دوسری ذات کے لوگوں کے ذریعے جنسی طور پر زدو کوب کیے جانےکا ایک طویل سلسلہ ہے۔

ڈیڑھ برس قبل دلی میں میڈیکل کی ایک طالبہ کے ریپ اور قتل کے واقعے نے ملک کے اجتماعی شعور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ریپ اور جسنی حملوں کی سزاؤں کو بہت سخت کر دیا گیا اور پورے ملک میں اس طرح کے واقعات کی سماعت اور مجرموں کو جلد از جلد سزائیں دینے کے لیے تیز رفتار عدالتیں بنائی گئیں۔

کئی واقعات میں موت کی سزا بھی سنا‏ی گئی۔ یہ امید کی جا رہی تھی کہ ان اقدامات سے ریپ کے واقعات میں کمی آئے گی لیکن اس کے بعد سے اکیلے دلی میں ریپ کے واقعات میں دو گنا اضافہ ہو چکا ہے۔

اس برس کے ابتدائی چار مہینوں میں دارالحکومت دلی میں ریپ کے روز آنہ اوسطاً پانچ واقعات درج کیے گئے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنریپ کے بیشتر واقعات میں جنسی حملے کا نشانہ غریب اور کمزور طبقوں کی خواتین ہوتی ہیں

ریپ کے بیشتر واقعات میں جنسی حملے کا نشانہ غریب اور کمزور طبقوں کی خواتین اور بچیوں کو بنایا جاتا ہے۔ اتر پردیش ، بہار ، راجستھان ، اُڑیسہ اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں دلت اور قبائلی بیشتر واقعات میں ان کی رپورٹ بھی درج نہیں کرائیں گے ۔اس کا پہلا سبب تو یہ ہے کہ علاقے کے بااثر اور متمول افراد کے خلاف منھ کھولنے کی جرات کرنا ایک انتہائی مشکل کام ہے اور دوسرے یہ کہ پولیس اور مقامی انتظامیہ اکثر ملزموں کا ہی ساتھ دیتی ہے۔

دلی اور ممبئی جیسے بڑے بڑے شہروں میں تو پولیس اور انتظامیہ کی کارکردگی ہمیشہ میڈیاکی نظروں میں رہتی ہے اس لیے یہاں تو انصاف ملنے کی توقع کی جا سکتی ہے لیکن بھارت کی مختلف ریاستوں میں وہی صورتحال ہے جو بدایوں کی ہے۔

مقامی سیاسی جماعتوں ، انتظامیہ اور پولیس کا جو رویہ ہے اور ذیلی عدالتوں میں سماعت کا جو نظام ہے ان کے پیش نظر اس صورتحال میں کسی بڑی تبدیلی کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔

کچھ دن پہلے جب مبئی کی ایک عدالت نے ایک عادی مجرم کو جو کئی بار ریپ کا ارتکاب کر چکا تھا موت کی سزا سنائی تو اتر پردیش کے سینیئر سیاسی رہنما اور سابق وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو نے موت کی سزا کی محالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’لڑکے ہیں لڑکوں سے غلطی ہو جاتی ہے تو کیا انہیں موت کی سزا دی جانی چاہیئے ‘۔