مسلم لیگ نون کے رکن صوبائی اسمبلی اغوا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, شہزاد ملک، علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ نون کے رکنِ پنجاب اسمبلی رانا جمیل خان کو نامعلوم افراد نے وسطی پنجاب سے سنیچر کو اغوا کر لیا۔
پولیس کو شبہ ہے کہ یہ اغوا برائے تاوان کی واردات ہے تاہم اس حوالے سے معلومات اکھٹی کی جا رہی ہیں۔
پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف اغوا برائے تاوان اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا کےمقامی پولیس سٹیشن لکسیاں کے اہلکار کا کہنا ہے کہ حالات اور واقعات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ملزمان کو مغوی رکن صوبائی اسمبلی کے شیڈول کے بارے میں علم تھا اور وہ ان کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے۔
لکسیاں پولیس سٹیشن کے سربراہ محمد وقاص کا کہنا ہے کہ پولیس کو جو اطلاع ملی ہے اس کے مطابق رانا جمیل کو موٹر وے پر سیال موڑ کے قریب مسلح افراد نے اغوا کیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ مغوی کی بازیابی کے لیے شہر بھر میں ناکہ بندی کردی گئی ہے اور دوسرے شہروں کی پولیس کو بھی اس بارے میں بتادیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اُن کا مغوی کے خاندان سے مسلسل رابطہ ہے اور اُن کے اہلخانہ کے بقول اغوا کاروں نے ابھی تک تاوان کے لیے فون نہیں کیا۔
ایس ایچ او کے مطابق پولیس سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے ریکارڈ اکھٹا کر رہی ہے۔
ادھر موٹر وے پولیس کے ترجمان جاوید چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ مغوی رانا جمیل کی گاڑی وائی جی 789 کا موٹر وے پر آنے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ رکن پنجاب اسمبلی رانا جمیل کو موٹر وے پر آنے سے پہلے ہی اغوا کرلیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل رانا جمیل کے بھائی رانا وکیل نے میڈیا کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کے بھائی کی اہلیہ کو راولپنڈی کے نزدیک گاڑی سے اتار دیا اور ان کے بھائی کو اغوا کرکے نامعلوم مقام پر لے گئے۔
رانا جمیل کی اہلیہ نے پولیس کو بتایا کہ اغوا کاروں نے ان کے شوہر کی رہائی کے بدلے تاوان طلب کیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے صوبے پنجاب سے اس سے پہلے بھی دو سیاستدانوں کے صاحبزادوں کو اغواکیا جا چکا ہے۔







