17 برس بعد لشکرگاہ کی لوٹتی رونقیں

افغانستان کے صدارتی انتخابات کے دوران بی بی سی پشتو سروس کی نامہ نگار سعیدہ محمود نے صوبہ ہلمند سے رپورٹنگ کی۔ افغانستان کے اس جنوبی صوبے کو خطرناک ترین علاقوں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے انتخابات کی کوریج کے ساتھ ساتھ یہ ان کے لیے ایسی جگہ پر واپسی بھی تھی جہاں وہ خود پلی بڑھی ہیں۔
میں سترہ برس سے ہلمند نہیں گئی تھیں۔ میں آخری مرتبہ طالبان کے دور حکومت میں وہاں گئی تھی اور اب قندھار سے ایک ٹوٹی پھوٹی ٹیکسی پر طویل مسافت طے کر کے وہاں پہنچی تو گھبراہٹ محسوس کر رہی تھی۔
اس مرتبہ میں نے وہاں کسی کو اپنی آمد کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ جب میں بنا بتائے اپنی بھتیجی کے گھر پہنچی تو ہم دونوں اشک بار تھیں کیونکہ ہم دونوں ایک طویل عرصےکے بعد ایک دوسرے کے گلے لگی تھیں۔
سنہ 1997 میں ہلمند کی خواتین کے لیے حالات بہت سخت تھے۔ طالبان کی حکومت کے دوران عورتوں کو ملازمت کرنے اور گھر سے اکیلے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔
مجھے یاد ہیں میں اُس وقت کئی ایسی خواتین سے ملی تھی جن کے شوہر لڑائی میں مارے گئے اور وہ اپنے بچوں کی کفالت کے لیے پریشان تھیں۔
اس مرتبہ میں نے دیکھا کہ بہت سے خواتین گھروں سے باہر نکل رہیں تھیں حتی کہ شام میں بھی۔ ماضی میں ان خواتین کو برقع پہننا پڑتا تھا اور گھروں سے باہر عورتوں کے چہرے دکھائی دینا ناممکن تھا۔ اب ان برقعوں کی جگہ سکارف اور چادروں نے لے لی ہے۔
سنہ 1997 میں لشکر گاہ کی ہر چیز گرد آلود لگتی تھی۔ میرے بچپن میں دیکھے ہوئے سر سبز درخت بہت پہلے ہی ختم ہو چکے تھے۔ انہیں یا تو لڑائی میں جلا دیا گیا یا ایندھن کے لیے کاٹا گیا۔ لیکن اس وقت سکیورٹی کا احساس تھا جو اب نہیں ہے۔

طالبان کے دور میں لوگ گھروں کے دروازے کھلے چھوڑ جایا کرتے تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کے سخت شرعی قوانین کی وجہ سے چوروں کی حوصلہ شکنی ہوگی لیکن اب لوگوں نے گھروں کے گرد حفاظتی دیواریں تعمیر کر دی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی لوگوں نے مجھے بتایا کہ وہ جرائم سے خوفزدہ ہیں اور جب برطانوی فوج بھی اس علاقے سے چلی جائے گی تو حالات اور بھی خراب ہو جائیں گے۔
ایک چیز جو اس علاقے میں بدلی ہے وہ یہ کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے سکول دوبارہ کھل گئے ہیں۔
اپنے پرانے سکول بوست ہائی سکول میں میں کئی نوجوان لڑکیوں سے ملی جن کے بڑے بڑے خواب ہیں۔ فاطمہ ایک ڈاکٹر بن کر نوائیدہ بچوں اور زچگی کے دوران خواتین کی ہونے والی ہلاکتوں کی صورتحال کو بہتر کرنا چاہتی ہیں۔
دیوا وکیل بننا چاہتی ہیں اور گھریلو تشدد کے خلاف کام کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’کوئی نہیں ہے جو ہماری خواتین کا دفاع کر سکے یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے۔‘
کئی لڑکیوں نے مجھے بتایا کہ ان کی خواہش ہے کہ حکومت ان کے لیے اسی علاقے میں ایک میڈیکل کالج بنائے کیونکہ ان کے والدین انہیں تعلیم کے لیے کابل جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

کئی خواتین نے بتایا کہ انہیں اب بھی باہر جانے کے لیے اپنے شوہروں سے اجازت لینی پڑتی ہے اور وہ اپنی زندگی کے بارے میں فیصلے نہیں کر سکتیں۔
یہاں اب نئی سڑکیں ہیں، نئے نجی سکول ، کالج اور کلینکس ہیں اور ایک قطار میں بنی دکانیں جن میں چینی سامان فروخت ہو رہا ہے۔
گھروں کو دوبارہ رنگا گیا ہے اور سڑکوں کے کنارے صنوبر اور کیکر کے نئے درخت لگائے گئے ہیں۔
مجھے ایسا لگا رہا تھا جیسے یہ شہر آہستہ آہستہ زندگی کی جانب لوٹ رہا تھا۔ بعض لوگوں نے علاقے میں تعمیرِ نو کی برطانوی فوج کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے بتایا کہ برطانوی فوج نے یہاں کئی منصوبوں کے حصول میں مدد کی۔ یہاں خوردنی تیل، کاٹن اور صابن بنانے کے کارخانے کام کر رہے ہیں۔ یہاں ان نوجوانوں کے لیے بھی ادارہ بنایا گیا جو طالبان کے لیے کام کرنے لگے تھے۔
یہ ادارہ نو سال تک کی عمر کے بچوں کا گھر ہے اور یہ انہیں معاشرے میں واپس شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
میں وہاں گئی تو ان بچوں نے مجھے کمپیوٹر، کھانے پکانے، کپڑے سینے کے حوالے سے اپنی تربیت کے بارے میں بتایا۔ یہ ہنر سیکھنے کے بعد انہیں ملازمت کے حصول میں آسانی ہوگی۔
افغانستان کے باقی حصوں کے طرح ہلمند میں بھی یہی شکایت ہے کہ اگر بدعنوانیاں نہ کی گئی ہوتیں تو ترقی اس سے بھی کہیں زیادہ ہوتی۔
پوست کی کاشت

ہلمند کی ترقی میں حائل ایک اور بڑی رکاوٹ ہے۔ لشکر گاہ میں قیام کے آخری روز میں نے ٹریکٹروں کا ایک کارواں شہر کے باہر موجود کھیتوں میں جاتے دیکھا۔ یہ پوست کی فصل کو ختم کرنے جا رہے تھے۔
ہلمند میں دنیا بھر کی مجموعی پوست کی پیداوار کا 40 فیصد اگایا جاتا ہے۔ اور اس سال تو اس کا کاشت سے مقامی ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان ہے۔
ایک مقامی عورت زرغونہ نے مجھے بتایا کے اس کا بیٹا بے روز گار ہے اور وہ نوکری کے حصول کے لیے رشوت دینے کی سکت نہیں رکھتے۔
اس کا کہنا تھا ’میں پریشان ہوں کہ وہ کہیں منشیات کے کاروبار سے وابستہ نہ ہوجائے۔‘ میں نے ایسی ہی کئی دوسری کہانیاں سنیں۔
یہ میری لیے بھی ایک یاد دہانی تھی کہ ہلمند میں بہتر ہوتی زندگی کے باجود اب بھی ایک طویل سفر ہے جو طے ہونا باقی ہے۔







