کشمیر میں طلبہ ووٹ ڈالنا نہیں چاہتے

بھارت میں مجموعی طور پر پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ملک کے باقی حصوں کے مقابلے یہ بہت کم ہے۔
بدھ کو جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور وفاقی وزیر فاروق عبداللہ کی قسمت کا فیصلہ ہو رہا ہے۔
لیکن کشمیر کے بارہ مولہ میں ایم ایس ایم کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجي میں ایک بھی طالب علم ایسا نہیں تھا جس نے ووٹ ڈالنے میں دلچسپی دکھائی ہو۔
بی بی سی کیمپس ہینگ آؤٹ پروگرام کے تحت ’کیا کشمیر کی آواز دہلی تک پہنچتی ہے؟‘ کے موضوع پر گفتگو کے دوران یہ بات سامنے آئی۔
بی بی سی کے مکیش شرما کہتے ہیں کہ پہلے سوال کے جواب میں ایک بھی ہاتھ نہیں اٹھا۔
پہلا سوال تھا: ’آپ میں سے کتنے لوگ اس بار ووٹ دیں گے؟‘
ان کا کہنا تھا انھیں اکثریت کے رحجانات کا علم تھا لیکن اس طرح کے یک طرفہ جواب کی توقع تو بالکل نہیں تھی۔

کالج میں موجود تقریباً ڈھائی سو طلبہ کا کہنا تھا: ’ہم کس کے لیے ووٹ دیں، گولی کھانے کے لیے؟ ہمیں یہاں کیا سہولیات ملی ہیں؟ ہم بھارت کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مکیش کا کہنا ہے کہ تقریباً سوا گھنٹے تک جاری رہنے والے اس پروگرام میں طلبہ و طالبات کے غم و غصے، درد اور جھنجھلاہٹیں واضح تھیں۔
ایک طالبہ انم نے ایک ہی سانس میں کہا: ’میں 21 سال کی ہوں اور میں ووٹ دینے نہیں جا رہی۔‘ اس کی وجہ بھی بتاتے ہوئے انھوں نے کہا: ’بھارت کہتا ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ حصہ ہے مگر وہ ایسا مانتا نہیں ہے۔ دیکھیے ہمیں کتنی کم سہولیات میسر ہیں۔‘
انم کا کہنا تھا: ’میں چار سال بعد کمپیوٹر انجینیئر بنوں گی تو یہاں میرے لیے روزگار کے مواقع ہی نہیں ہوں گے۔ مجھے تو ٹیچر بننا پڑے گا مگر ایسا میں نہیں چاہتی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کشمیر میں بے روزگاری کی وجہ سے نوجوان پریشان ہے اور ووٹ کرنے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا۔‘
رابعہ نے بھی روزگار کا مسئلہ اٹھایا: ’ہم نے عمر عبداللہ کو وزیر اعلیٰ بنایا، یہ سوچ کر کہ وہ نوجوان ہیں کچھ تبدیلی لائیں گے۔ مگر وہ کیا لائے؟ زوبن مہتا۔ ہمیں زبن نہیں ڈیل اور وپرو چاہیے۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں کشمیر میں موسیقی کے پروگرام کے لیے معروف موسیقار زوبن مہتا آئے تھے جبکہ ڈیل اور وپرو کمپیوٹر کی معروف کمپنیاں ہیں۔
کشمیر میں فوج کی موجودگی پر بھی سوال اٹھے۔ مگر سوال کو ایک واقعے سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔
جنید نے کہا: ’ہم صرف اپنا حق چاہتے ہیں۔ ممبئی میں دہشت گردانہ حملے ہونے کے بعد وہاں سڑکوں پر فوج نہیں گھومتی، تو یہاں حملے کے بعد فوج کیوں ہر جگہ آ جاتی ہے؟ ہم کشمیر سے باہر جائیں تو ہمیں ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔‘
ایک دوسری طالبہ ہدیٰ نے کہا: ’میں ووٹ نہیں ڈالوں گی۔ میں ان کے لیے ووٹ کیوں ڈالوں جنھوں نے میرے بھائیوں کو گولی مار دی، میری بہنوں کی عصمت دری کی۔ گاؤں میں جائیں تو دیکھیں گے کہ بڑی تعداد ایسی عورتوں کی ہے جو یا تو بیوہ ہیں یا انھیں بھی پتہ نہیں کہ ان کے شوہر کہاں ہیں۔‘
ہدیٰ کا کہنا تھا: ’ہمیں اپنے مستقبل کا علم ہی نہیں۔ دہلی میں گینگ ریپ کرنے والوں کو تو پھانسی ملی مگر یہاں جو فوج کے لوگ ریپ کرتے ہیں ان کا کیا بنا؟‘
تابندہ نے کہا: ’میں بائیکاٹ کی بات نہیں کرتی۔ میں ووٹ ڈالنا چاہتی ہوں لیکن مجھے پتہ ہی نہیں کہ مجھے ووٹ کسے دینا ہے۔ اگر میں نے گذشتہ 21 سالوں میں دیکھا ہوتا کہ کسی وزیر نے کام کیا ہے تو میں سوچتی کہ میں ووٹ ضرور دوں گی۔‘

تابندہ نے سکیورٹی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا: ’میں اگر ووٹ دینا بھی چاہوں تو بہت پولیس والے ہوتے ہیں کہ کرفیو جیسے ماحول میں میں کیسے جاؤں ووٹ دینے؟ دہلی میں جب پولنگ ہوئی تھی تو وہاں ماحول عام تھا مگر یہاں کیوں کرفیو جیسی حالت ہو جاتی ہے؟‘
حامد نے آزادی کا مطالبہ اٹھاتے ہوئے کہا: ’کشمیریوں کے لیے بھارت کا رویہ ٹھیک نہیں ہے۔ کشمیر کے نوجوان کا مطالبہ آزادی ہے۔ بھارت کے پڑھے لکھے لوگ بھی ہمارے جذبات نہیں سمجھتے۔‘
چونکہ بحث کا موضوع کیا دہلی تک کشمیر کی آواز پہنچتی ہے تھا تو اس سلسلے میں بھی سوال پوچھے گئے۔
جامعہ کے طالب علم زمرد مغل نے کہا: ’غلطی صرف حکومت کی ہی نہیں ہے۔ میں گذشتہ پانچ چھ برسوں سے دہلی میں ہوں اور میرے بھائی بہن جو یہ سوچتے ہیں کہ کشمیر سے باہر جانے والوں کے ساتھ برا سلوک ہوتا ہے تو وہ غلط سوچتے ہیں۔‘







